ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ لبنان کے کسی بھی حصے پر اسرائیل کا مسلسل قبضہ یا آئندہ کسی قسم کی فوجی کارروائی امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔
تہران میں سفارت کاروں سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اور لبنان میں جنگ کے خاتمے کے معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ لبنان پر کسی نئے حملے کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
ایران کو 300 ارب ڈالر نہیں دے رہے ، ڈیموکریٹس نے جھوٹی خبر پھیلائی ، ڈونلڈ ٹرمپ
انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ مذاکرات دو مراحل میں انجام پائیں گے۔ مفاہمتی یادداشت باضابطہ طور پر جمعے سے نافذ العمل ہو گی ، حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا نیا دور ممکنہ طور پر جمعے کو سوئٹزر لینڈ میں شروع ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں جنگ بندی اور علاقائی معاملات جبکہ بعد ازاں جوہری پروگرام اور پابندیوں کے خاتمے پر بات چیت ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اایران کے وقت کے مطابق پیر کے روز امریکا کے ساتھ معاہدہ حتمی شکل اختیار کرنے کے بعد جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
