سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد تک اضافہ،کم از کم اجرت37 ہزار، سندھ کا بجٹ پیش

سندھ حکومت

سندھ  حکومت نے اگلے مالی سال کے بجٹ مں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 22 سے 30 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔

سندھ اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ 959ارب روپے کے نمایاں ترقیاتی اخراجات کی تجویز اخراجات کا 31 فیصد ہے،سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی اور غریبوں کیلئے سماجی تحفظ پر توجہ مرکو ہے۔

ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی میں 1.30 فیصد کا اضافہ

صوبے کی کل متوقع آمدنی 3 کھرب روپے ہے،وفاقی منتقلی 62فیصد اور صوبائی وصولیاں 22فیصد ہیں،وفاقی گرانٹس پی ایس ڈی پی میں 77 ارب روپے شامل ہیں ،غیر ملکی گرانٹس 6 ارب اور کیری اوور کیش بیلنس 55 ارب روپے شامل ہیں۔

بجٹ میں تعلیم کیلئے سب سے زیادہ 519ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،بجٹ میں دیگرادائیگیوں اور سرکاری سرمایہ کاری کیلئے 142.5ارب روپےمختص کئے گئے،ورکس اینڈ سروسز کیلئے 86ارب روپے،توانائی کیلئے77ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ بجٹ میں تعلیم و صحت کیلئے اہم گرانٹس کے ذریعے سرمایہ کاری کو ترجیح دی گئی،ٹرانسپورٹ کیلئے 56ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،بڑی گرانٹس کی کل رقم 190 ارب روپے بنتی ہے۔

منی لانڈرنگ کیس ،ایف آئی اے نے مونس الٰہی کیخلاف ضمنی چالان داخل کر ادیا

کسانوں کو ہاری کارڈ سے مالی مدد دینےکیلئے 8ارب روپے مختص کئے گئے،تنخواہوں کا بڑا حصہ38فیصد ہے، گرانٹس 27 فیصد مختلف پروگراموں کیلئےمختص ہیں۔

ملازمین کی پنشن اور ریٹائرمنٹ کے فوائد موجودہ اخراجات کے بقیہ 14 فیصد ہیں،کرنٹ کیپیٹل کے اخراجات میں 42 ارب روپے کی رقم قرضوں کی ادائیگی کیلئے ہے،334ارب روپے فارن پراجیکٹ اسسٹنس کیلئے مختص ہیں۔

بجٹ میں 55 ارب روپے ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کیلئے مختص کئے گئے ہیں ،بجٹ میں سماجی خدمات میں سرمایہ کاری کو ترجیح دی گئی ،صحت کیلئے 334 ارب روپے رکھے گئے ہیں،لوکل گورنمنٹ 329 ارب روپے کے مجوزہ بجٹ کیساتھ ٹاپ تھری میں شامل ہے۔

بجٹ میں بنیادی انفرااسٹرکچر کے اہم شعبوں کیلئے بھی اہم وسائل مختص کئے گئے ہیں ،زراعت کیلئے 58 ارب روپے ،توانائی کیلئے 77 ارب روپے سمیت جاری اخراجات کیلئے 62 ارب روپے مختص کئے گئے۔

آبپاشی کیلئے 94 ارب روپے سمیت موجودہ اخراجات کیلئے 36 ارب روپے،ورکس اینڈ سروسز کیلئے 86 ارب روپے اور پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کیلئے 30 ارب روپے،ٹرانسپورٹ کیلئے 56 ارب روپے،ورکس اینڈ سروسز کیلئے 86 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

ایس جی اینڈ سی ڈی کیلئے 153 ارب روپے رکھے گئے ہیں،وزارت داخلہ کیلئے 194 ارب روپے مختص کیے گئے ،صوبائی بجٹ میں سماجی و معاشی بہبود کو ترجیح دی گئی ہے۔

سونے کی فی تولہ قیمت میں 800 روپے کا اضافہ

کم از کم اجرت 37ہزار روپے تک کرنے کی تجویز ہے ،34.9ارب روپے کی رقم غریبوں کی مدد کیلئے مختص کی جارہی ہے،شہریوں پر مالی بوجھ کم کرنے کیلئے116 ارب روپے سبسڈیز پروگرام شامل ہیں۔

محفوظ پناہ گاہ کو فروغ دینے کیلئے ہاؤسنگ اسکیموں کیلئے 25 ارب روپے مختص کئے گئے،سندھ کا صوبائی بجٹ اپنی توجہ فوری امدادی اقدامات پر مرکوز کررہا ہے۔

ملیر ایکسپریس ،کورنگی میں ایک انکلیوو کمپلیکس بنانے کیلئے 5 ارب روپے مختص کئے گئے،کمپلیکس میں تعلیم، بحالی، تربیت، رہائش، طبی خدمات، تفریح اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

پولیس میں پہلی بار 485 پولیس اسٹیشن کیلئے مخصوص بجٹ مختص کیا گیا ،سولرائزیشن انیشیٹو کیلئے5سال میں 5 ارب روپے مختص کیے جائیں گے ،حب کینال جیسی ایک نئی نہر کی تعمیر پر 5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ مزدور کارڈ کے تحت 5 ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں،بجٹ میں زراعت کیلئے 11 ارب روپے رکھے گئے ہیں،سماجی تحفظ کیلئے 12 ارب روپے، یونیورسٹیز اینڈ بورڈ کیلئے 3.2 ارب روپے،ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ کیلئے 2 ارب روپے اور ڈی ای پی ڈی کیلئے 1.5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

کراچی میں دودھ فی لیٹر20روپے مہنگا کردیا گیا

بجٹ میں تعلیم و صحت کیلئے اہم گرانٹس کے ذریعے سرمایہ کاری کو ترجیح دی گئی،بڑی گرانٹس کی کل رقم 190 ارب روپے بنتی ہے،گرانٹس کی مد میں 35 ارب روپے سندھ بھر کی یونیورسٹیوں کیلئے مختص کئے گئے ہیں،فنڈنگ کا مقصد تعلیمی اداروں کو مضبوط کرنا اور صحت کی معیاری خدمات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔

صوبے کی کل متوقع آمدنی 30کھرب روپے ہے،پیپلز بس کی ڈیمانڈ زیادہ ہے،مزید بسز کیلئے رقم رکھی ہے،2022میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب آیا،جنیوا ڈونر کانفرنس سے500ملین ڈالر کے وعدے کئے گئے۔

200ملین ڈالرز بین الاقوامی بینکوں کے ذریعے آئے،سندھ میں سیلاب متاثرین کیلئے21 لاکھ گھر بناکردے رہے ہیں،
21لاکھ میں سے 8 لاکھ گھروں کے مالکانہ حقوق خواتین کو ملیں گے،اس سے پہلے نیپال میں 8 لاکھ گھر زلزلہ متاثرین کیلئے بنائے گئے تھے۔

روزانہ کی بنیاد پر 1500گھر بنائے جارہے جنہیں 3ہزار پر لےکر جانا چاہتے ہیں،21لاکھ کے گھروں کے منصوبے میں ایک لاکھ 25 ہزار گھر بن چکے ہیں،ساڑھے 5 سے 6 لاکھ گھر زیرتعمیر ہیں۔

ہمارے پاس گھروں کی فنڈنگ موجود ہے،اس منصوبے سے ایک کروڑ 60لاکھ افراد مستفید ہوں گے،ساڑھے8 لاکھ لوگوں کے بینک اکاؤنٹس کھل چکے، پیسے وہاں جارہے ہیں۔

بالائی پنجاب میں آندھی اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی

کچھی آبادی میں رہنے والے لوگوں کیلئے بھی اسکیم لے کرآرہے ہیں،پی ٹی آئی حکومت کے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں سندھ کیلئےکوئی اسکیم شامل نہیں تھی،اسمبلی سے منظور ترقیاتی اسکیمیں بند نہیں ہونی چاہیے تھیں۔

آئینی حدود سے زیادہ نگران حکومت کے رہنے سے منصوبے متاثر ہوئے،نگران حکومت نے سندھ کے 88ارب روپے کے نئے منصوبے روک دیئے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ گریڈ ایک سے 6 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30فیصد اضافے کی تجویز ہے،گریڈ 7سے 16 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25فیصد اضافہ کرنے کی تجویزہے،گریڈ 17سے22 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 22فیصد اضافے کی تجویزہے۔

پنشن میں 15 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے،کم از کم اجرت 37ہزار روپے تک کرنے کی تجویز ہے ،2کروڑ 60لاکھوں آف گرڈ گھروں کو مفت سولر پینل فراہم کئے جائیں گے،آئندہ مالی سال میں سولر کےذریعے 5 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کی جائے گی،اس منصوبے کے لئے 25 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

برگز گیمز 2024 ، پاکستان کے ویٹ لفٹر حیدر سلطان نے پہلا گولڈ میڈل حاصل کرلیا

سرکاری عمارتوں کی مرمت کیلئے 5.62ارب روپے مختص کئے گئے ہیں،سڑکوں، ہاؤسز اور پلوں کی مرمت کیلئے5.2ارب روپے رکھے گئے ہیں،کراچی میں سرکلر ریلوے کی بحالی کے لئے دوسال سے بجٹ مختص کررہے ہیں،وفاقی حکومت اپنا وعدہ پورا نہیں کرتی،وفاقی حکومت نے سرکلر ریلوے کے لئے کوئی فنڈز مختص نہیں کیے۔

وزیراعظم نے سی پیک منصوبے میں سرکلر ریلوے پر کام شروع کرنے کی یقین دہانی کروائی،سرکلر ریلوے کی کنسلٹنسی کیلئے 45ملین کا بجٹ رکھا گیا ہے ،حکومت سندھ سرکلر ریلوے کیلئے جب جہاں ضرورت ہوگی فنڈز دے گی ۔

خدمات پر سندھ سیلز ٹیکس کی شرح 13 سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے کی سفارش ہے۔ٹیلی کام خدمات پر 18 فیصد ان پٹ ٹیکس کریڈٹ وصول کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

1500 سے3 ہزار سی سی تک کی امپورٹڈ گاڑیوں پر لگژری ٹیکس ساڑھے 4 لاکھ کرنے کی تجویز ہے،پروفیشنل ٹیکس کو 500روپے سے بڑھا کر 2ہزار روپے،پیٹرول پمپس ،سی این جی اسٹیشنز پر پروفیشنل ٹیکس 5ہزار سے بڑھاکر 20 ہزار،800سے لیکر2100سی سی تک کی گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس 500سے بڑھا کر 5ہزار کرنے کی تجویز ہے۔

اسٹیٹ بینک نے عیدالاضحٰی پر تعطیلات کا اعلان کردیا

اسی طرح بورڈ آف ریونیو کی تمام لیویز کو بھی بڑھانے کی تجویزہے،مختلف پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں کے روٹ پرمٹ اور گڈز گاڑیوں کی فیس میں اضافے،سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کیلئے 28ارب روپے اگلے مالی سال کے بجٹ میں رکھنے کی تجویز ہے۔

سندھ حکومت نے مختلف محکموں میں 5 ہزار 295 نوکریاں دینے کا فیصلہ بھی کیا ہے،نئے مالیاتی بجٹ میں مختلف محکموں کیلئے 5295 نئی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں،محکمہ زراعت میں ایک ہزار نوکریاں دی جائیں گی۔

ایجوکیشن ایڈمنسٹریشن میں 3 ہزار 45 نوکریاں دی جا ئیں گی،سندھ اسمبلی میں 271، محکمہ انسانی حقوق میں 6، کالج ایجوکیشن میں 74 آسامیاں پیدا کی گئیں،ہائیر سیکنڈری میں 355، ایلیمنٹری اینڈ مڈل ایجوکیشن میں 118آسامیاں پیدا کی گئی ہیں۔

نساؤ کاؤنٹی کرکٹ سٹیڈیم کوگرانےکا فیصلہ

پرائمری ایجوکیشن میں 35 ، محکمہ قانون اور پارلیمانی میں 93 نوکریاں دی جائیں گی،پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں 31نئی خالی آسامیاں پیدا کی گئی ہیں،فنانس اور ایس اینڈ جی ای ڈی ڈیپارٹمنٹس میں 30،30 نوکریاں دی جائیں گی،نئے مالیاتی بجٹ میں ان ملازمتوں کیلئے 17 ارب 13 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔


متعلقہ خبریں