تاجروں نے وفاقی بجٹ کو سخت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا

Budget

کراچی: ملک بھر کے تاجروں نے بجٹ 25-2024 کو سخت قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر افتخار احمد نے بجٹ سے متعلق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ عوام اور تاجر دوست نہیں ہے۔ بہت سی چیزیں اب تک واضح نہیں جبکہ نئے ٹیکسز لگائے گئے جس کا بوجھ ہم سب پر پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹرز پر ایک فیصد فائنل ٹیکس ختم کرنے سے ایکسپورٹ کم ہو گی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ایکسپورٹرز کو ہراساں کرنے کا مزید موقع مل جائے گا۔

صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے کہا کہ وفاقی بجٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ اس وقت زمیندار، صنعتکار اور دکاندار مشکل میں ہے۔ 12 ہزار 970 ارب آئیں گے کہاں سے ؟ ٹیکس ریٹ 35 سے 45 فیصد کرنے کو بھی مسترد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موبائل فون پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگانا انتہا کا ظلم ہے۔ بجٹ میں حکومتی اخراجات کم کرنے کے لیے کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ میں پیوند لگائے گئے، ٹیکس سے تنخواہ دار طبقے پر بوجھ پڑے گا، مفتاح اسماعیل

اجمل بلوچ نے کہا کہ چمڑے کے کاروبار پر 18 فیصد سیلز ٹیکس سے جوتا مہنگا ہو گا اور سیلز ٹیکس بڑھانے سے عام آدمی کے لیے مزید مشکلات بڑھیں گی۔

تاجر رہنما سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ کراچی آج بھی سب سے زیادہ ٹیکس جمع کرتا ہے اور کراچی کی ایک مارکیٹ پورے لاہور سے زیادہ ٹیکس دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکس بڑھانا مسئلہ نہیں لیکن صرف کراچی تو ٹیکس نہیں دے گا۔


ٹیگز :
متعلقہ خبریں