بلوں میں ٹیکسز کا ہمارے محکمے سے کوئی تعلق نہیں، وفاقی وزیر توانائی

بجلی بلوں

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ بجلی بلوں میں جتنے بھی ٹیکسز اور پی ٹی وی فیس لئے جاتے ہیں اس کا ہمارے محکمے سے تعلق نہیں ہے۔

ڈسکوز کی جانب سے ضلعی سطح پر ٹرانسفارمرز ریپئرنگ ورکشاپ کی سہولت فراہم نہ کئے جانے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا اس وقت پورے ملک میں مختلف ورکشاپس ہیں جن میں ٹرانسفارمرز کو ریپیئر کرنے کی استعداد ہے،لیسکو میں 18ہزار سالانہ ٹرانسفارمرز ریپئرنگ کرنے کی استعداد ہے۔

چیئرمین پی سی بی فوری استعفیٰ دیں ،مطالبہ زور پکڑ گیا

انہوں نے مزید کہا توانائی کے ایشوز پاکستان کو کئی سال سے درپیش ہیں،توانائی کا نظام نااہلی کے باعث بیمار ہوچکا ہے،توانائی کا نظام خراب کرنے سے سب نے حسب استطاعت اپنا حصہ ڈالا ہے۔

خیبر کے وزیر اعلیٰ طے کر کے گئے کہ بجلی چوری کو روکیں گے،اس وقت 12 ہزار ٹیوب ویلز، 28 ہزار ٹرانسفارمر غیر قانونی طور پر چلائے جارہے ہیں۔

ہم نے بجلی چوری کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آرز درج کرائی ہیں،جو لوگ بجلی کا بل دے رہے وہ بجلی چوروں کا بوجھ کیوں برداشت کریں؟ہم 700 ارب روپے سے زائد کی بجلی چوری کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتے،ملک میں اضافی بجلی موجود ہے۔

رواں مالی سال کے دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کےسارے ریکارڈٹوٹ گئے

اویس لغاری کا مزید کہنا تھا لوگ دھڑا دھڑ ہمارے گرڈ سے ہٹ رہے ہیں،ایک سال ڈیمانڈ بڑھنے کے بجائے 8 فیصد کی کمی ہے، جس کی وجہ سے کپیسٹی پیمنٹ کا بوجھ بڑھ رہا ہے،میں خود شمسی توانائی پر شفٹ ہوچکا ہوں۔

نیٹ میٹرنگ ہم نے شروع کی تھی،سولر پر کوئی ٹیکس لگانے کا حکومت کا ارادہ نہیں ہے،اووربلنگ پر بھی قانون سازی کرنے پر کام کررہے ہیں،یہ کمپنیاں صحیح چل ہی نہیں، ٹھیک کرنے کی شروعات ہوچکی ہیں۔جلد مثبت نتائج سامنے آئینگے۔


متعلقہ خبریں