گورنر خیبر پختونخوا کا وزیراعلی علی امین گنڈا پور کو مناظرے کا چیلنج

faisal kareem kundi

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کو مناظرے کا چیلنج دے دیا۔

ہم نیوز کے پروگرام ’’پاکستان ٹونائٹ ود سید ثمر عباس ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے پلیٹ فارم پر وزیراعلیٰ کو بلا لیں میں مناظرہ کرنے کو تیارہوں، وزیراعلیٰ اپنی مرضی کے موضوع پر جب چاہیں بات کرلیں،میں جانتا ہوں علی امین گنڈا پور مناظرے کیلئے نہیں آئیں گے بلکہ ہائی وے کی طرف بھاگیں گے۔

ایک ہزار طلبا کو تربیت کیلئے چین کی یونیورسٹی بھیجا جائے گا، وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ سیاست میں اتحاد بنتے بھی ہیں اور ٹوٹتے بھی ہیں، پی ڈی ایم میں مولانا فضل الرحمان ہمارے اتحادی تھے، جمہوریت بہترین انتقام ہے، سننے میں آرہا ہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان سے معاہد ہ سائن کریں گے۔

بانی پی ٹی آئی فضل الرحمان کا نام بگڑتے تھےاب وہ انہیں حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب کہیں گے ، سربراہ جے یو آئی ف جمہوریت پسند شخص ہیں ،ان کی جمہوریت کیلئے بہت ساری قربانیاں ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ ہم بس انتظارمیں ہیں کہ کب فضل الرحمان اور امین گنڈاپور ایک اسٹیج پر ہوں گے، ہم پی ٹی آئی کو سیاسی جماعت سمجھتے ہی نہیں ہیں۔

لوڈشیڈنگ کے معاملے پر ہمارے مسلم لیگ ن سے اختلافات ضرور ہیں ، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ پیپلز پارٹی اتحادی حکومت کو چھوڑے گی، بجٹ میں تنخواہیں بڑھانے ،فاٹا اورپاٹا کے ٹیکس پر ہمارے اختلافات ہیں، اختلافات کو مل بیٹھ کر حل کیا جاسکتا ہے، بجٹ پر حکومت پیپلز پارٹی کواعتماد میں لے گی۔

نواز شریف حلفاً کہیں میں انتخابات جیتا ہوں تو ہم سب چھوڑ دیں گے، اسد قیصر

فیصل کریم کنڈ نے کہا کہ وزیراعلیٰ جب بیان دیتے ہیں تو میں بہت انجوائے کرلیتا ہوں ، جب چھوٹےلوگوں کو بڑی سیٹ پر بٹھائیں گے ایسا توہوگا، انہوں نے کسی بھی پلیٹ فارم پر وزیراعلیٰ سے مناظرہ کرنے کی رضامندی ظاہر کرتے کہا کہ میں وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا سے کسی بھی ایشو پرمناظرہ کرنے کیلئے تیار ہوں، لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ علی امین گنڈا پور مناظرے کیلئے نہیں آئیں گے بلکہ بلکہ یہ ہائی وے کی طرف بھاگیں گے۔

 


متعلقہ خبریں