قائم مقام گورنر پنجاب نے دستخط کر دیئے ، ہتک عزت بل قانون بن گیا

ہتک عزت بل

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کے رخصت پر جانے کے بعد قائم مقام گورنر ملک احمد خان نے ہتک عزت بل پر دستخط کر دیئے ، جس کے بعد ہتک عزت بل قانون بن گیا۔

گزشتہ ماہ پنجاب اسمبلی سے ہتک عزت بل پاس ہوا جسے منظوری کیلئے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کو بھجوایا گیا، گورنر نے بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا، اس کے معاملے پر پنجاب حکومت اور گورنر کے درمیان ملاقات بھی ہوئی جس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکل سکا۔

ہتک عزت بل پر مشاورت نہیں ہوئی ، منظور کرتے وقت ہمارا کوئی رکن ایوان میں نہیں تھا ، پیپلز پارٹی

ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صدر آصف زرداری سے رابطہ کیا گیا، صدر نے گورنر پنجاب کو چھٹی پر جانے کا مشورہ دیا، گورنر سردار سلیم حیدر 6 جون سے 12 جون تک رخصت پر چلے گئے اور سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے قائم مقام گورنر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اگلے ہی روز بل پر دستخط کر دیئے۔

گورنر ہاؤس نے ہتک عزت بل پر قائم مقام گورنر پنجاب ملک احمد خان کی جانب سے دستخط کیے جانے کی تصدیق کر دی ہے۔

جھوٹی خبروں کا تدارک، پنجاب حکومت کا ہتک عزت قانون نافذ کرنے کا فیصلہ

پنجاب اسمبلی سے منظور کرائے گئے قانون کا اطلاق پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہو گا، جس کے تحت پھیلائی جانے والی جھوٹی اور غیر حقیقی خبروں پر ہتک عزت کا کیس ہو سکے گا، یوٹیوب، ٹک ٹاک، ایکس، ٹوئٹر، فیس بک، انسٹا گرام کے ذریعے پھیلائی جانے والی جعلی خبروں پر بھی اطلاق ہو گا۔

ہتک عزت قانون کے تحت کسی شخص کی ذاتی زندگی اور عوامی مقام کو نقصان پہنچانے کیلئے پھیلائی جانے والی خبروں پر کارروائی ہو گی، ہتک عزت کے کیسز کیلئے خصوصی ٹربیونلز قائم ہوں گے جو 6 ماہ میں فیصلہ کرنے کے پابند ہوں گے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی مشیر مشال اعظم کو ہتک عزت پر 3 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس

قانون بننے کے بعد 30 لاکھ روپے کا ہرجانہ ہو گا، آئینی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف الزام کی صورت میں ہائیکورٹ کے بینچ کیس سننے کے مجاز ہوں گے، خواتین اور خواجہ سراؤں کو کیس میں قانونی معاونت کے لئے حکومتی لیگل ٹیم کی سہولت میسر ہو گی۔

 


متعلقہ خبریں