ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024، قومی ٹیم کا بیلنس بظاہر آئوٹ، اوپننگ جوڑی کون؟

pak team

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے پہلے قومی ٹیم کا بیلنس بظاہر آوٹ نظر آرہا ہے ، قومی کرکٹرزسلمان علی آغا، محمد وسیم اور محمد حارث کے سلیکٹ نہ ہونے کی وجہ سے پلیئنگ الیون کا کمبی نیشن بنانا مشکل ہوگیا ہے ، اوپننگ جوڑی اب تک سیٹل نہیں ہوسکی ، شاداب کے آوٹ آف فارم ہونے کی بھی مشکل ہے لیکن اعظم خان کی جگہ بظاہر گیارہ کھلاڑیوں میں ہونا مشکل ہی نہیں نا ممکن لگ رہی ہے ۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2024 میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی مضبوط ترین الیون کے پہلے چار ستون کپتان بابر اعظم ، محمد رضوان ، صائم ایوب اور فخر زمان ہیں ، ان میں سے اوپننگ کیا ہوگی یہ تو شاید ٹیم مینجمنٹ ابھی تک فیصلہ نہیں کرسکی ، لیکن ظاہر ہے رضوان کی جگہ پکی ہے تو اعظم خان کی پلیئنگ الیون میں بطور وکٹ کیپر یا بیٹر جگہ نہیں بنتی لیکن اگر صائم کھیلتے ہیں تو ان کے ساتھ رضوان یا بابر میں سے ایک اوپنر آئے گا۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ، شائقین پاک بھارت ٹاکرا راولپنڈی اسٹیڈیم میں دیکھ سکیں گے

اسی طرح چوتھے اور پانچویں نمبر پر فخراور عثمان خان کو چنا گیا ہوگا، چھٹے پر افتخار اور ساتویں نمبر پر عماد وسیم پکے ہیں ، وہ بیٹنگ اور بالنگ دونوں جگہ پرفارم کررہے ہیں آٹھویں نمبر پر شاداب کو اگر بحثیت آل راونڈر کھلایا جاتا ہے تو ابرار کی چھٹی ہوجائے گی لیکن ابرار اس وقت زیادہ موزوں ہیں لیکن شاداب کی فیلڈنگ بھی زبردست ہے ، حالیہ بیٹنگ اور بالنگ دونوں میں وہ فیل ہورہے ہیں، نمبر نو پر شاہین آفریدی اور دس پر نسیم شاہ کی جگہ پکی ہے ، گیارہویں نمبر پر حارث روف اور محمد عامر کے درمیان مقابلہ ہے ۔

اس طرح بالنگ آپشنز میں فاسٹ ، گرین یا سوئنگ وکٹ پر پاکستان چار فاسٹ بالر نسیم،شاہین ،حارث اور عامرکو کھلاسکتا ہے وہاں شاداب یا عثمان میں سے کسی ایک کو ڈراپ کیا جاسکتا ہے کیونکہ صائم ایوب ، افتخار، اور عماد وسیم تینوں بالنگ کراتے ہیں، سلو وکٹ پر تین فاسٹ بالر نسیم،شاہین اور حارث کو ٹیم میں رکھ کر چار اسپن بالر یعنی ابراریا شاداب کو شامل کرکے اسپن اٹیک مزید موثر بنایا جاسکتا ہے ۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ،محمد حفیظ نے سیمی فائنل کے لئے 4 ٹیموں کی پیش گوئی کردی

بھارت کیخلاف شاہین اور نسیم شاہ کے ساتھ محمد عامر زیادہ موثر ہوسکتے ہیں اس میچ میں بھارت کے بلے باز بائیں ہاتھ کے بالرز کے سامنے کمزور ہوسکتے ہیں اس لیے اس میں حارث روف کی جگہ محمد عامر کو کھلانا چاہیے۔


متعلقہ خبریں