وفاقی بجٹ میں تنخواہ اور پنشن میں 10 سے 15 فیصد اضافہ زیر غور

وفاقی بجٹ

وفاقی بجٹ میں تنخواہ اور پنشن میں 10سے 15فیصد اضافہ زیر غور ہے۔

موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومت آئندہ بجٹ برائے 2024-25 میں سرکاری شعبے کے ملازمین کے لیے 10سے 15 فیصد تک تنخواہوں میں اضافے کے لیے مختلف تجاویز پر کام کر رہی ہے۔

وفاقی بجٹ سے پہلے ہمیں پٹرول پر جی ایس ٹی کے نفاذ کا فیصلہ کرنا ہے، مصدق ملک

تنخواہوں کے محاذ پر وزارت خزانہ تنخواہ میں صرف 10 فیصد اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ پھر بھی کچھ دباؤ ہو سکتا ہے اس لیے اگلے بجٹ میں تنخواہ میں اضافے کو 12.5 یا 15 فیصد تک بڑھانے کے لیے اسے 2.5 فیصد یا زیادہ سے زیادہ 5فیصد تک لانے کے لیے مالیاتی ایڈجسٹمنٹ ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ حکومت 2024-25 کے اگلے بجٹ میں پنشن اصلاحات متعارف کرانے کے لیے بھی پوری طرح تیار ہے۔ ان پنشنرز پر ٹیکس لگانے کی تجویز بھی زیر غور ہے جو ماہانہ ایک لاکھ روپے سے زیادہ پنشن لے رہے ہیں۔ امکان ہے کہ حکومت اگلے بجٹ سے زیادہ پنشن لینے والوں کے لیے مختلف سلیب متعارف کروا سکتی ہے۔

سیمنٹ کی بوری مہنگی ہوگئی

اعلیٰ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی کہ ہم 2024-25 کے اگلے بجٹ میں پنشن اصلاحات کے لیے ایک جامع پیکج کے ساتھ سرکاری شعبے کے ملازمین کی عمر کی حد کو دو یا پانچ سال تک بڑھانے کی تجویز پیش کر سکتے ہیں۔

مختلف تجاویز کے مطابق وفاقی حکومت کے ملازمین ریٹائرمنٹ سے قبل سروس کے آخری چھتیس ماہ کے دوران حاصل کیے گئے 70 فیصد اوسط قابل پنشن معاوضے کی بنیاد پر مجموعی پنشن کے حقدار ہوں گے۔

دوسری جانب پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 5 جون کو بلانے کی تجویزہے، ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں نئے مالی سال کا بجٹ 7 جون کو پیش ہو سکتا ہے۔

ملک بھر میں عید کے دنوں میں موسم خشک اور گرم رہنے کی پیشگوئی

وزیراعظم کے دورہ چین پر بجٹ اجلاس کی تاریخ میں ردوبدل کا امکان بھی ہے،متبادل آپشن کے طور پر بجٹ 8 یا 9 جون کو پیش کرنے کی تجویز ہے،قومی اقتصادی کونسل اور وفاقی کابینہ سے بجٹ کی منظوری لی جائے گی۔


متعلقہ خبریں