تمام اثاثے ڈیکلیئرڈ ہیں، سیاسی شخصیات کا دبئی پراپرٹی لیکس پر ردعمل

dubai property leaks

پاکستان کی سیاسی شخصیات نے دبئی پراپرٹی لیکس پر ردعمل میں کہا کہ تمام اثاثے ڈیکلیئرڈ ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دبئی پراپرٹی لیکس کے حوالے سے موجودہ خبر میں کچھ نیا نہیں، نہ ہی کچھ غیرقانونی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دبئی پراپرٹی لیکس میں نام آنے پر وضاحت جاری کی گئی ہے، بلاول بھٹو کے ترجمان ذوالفقار علی بدر کا کہنا ہے کہ بلاول اور آصفہ بھٹو کے تمام اثاثے ڈیکلیئرڈ ہیں۔

دبئی پراپرٹی لیکس، اہم پاکستانی شخصیات11 ارب ڈالر جائیداد کی مالک نکلیں

ترجمان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو اور آصفہ بھٹو نے جلاوطنی میں پرورش پائی، جلاوطنی کے دوران بلاول اور آصفہ بھٹو مذکورہ املاک میں رہائش پذیر تھے۔

ترجمان کے مطابق بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد مذکورہ املاک اولاد کو وراثت میں ملیں،ذوالفقارعلی بدر نے کہا کہ موجودہ خبر میں کچھ نیا نہیں، نہ ہی کچھ غیرقانونی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اہلیہ کے نام دبئی میں خریدی جائیداد باقاعدہ ڈیکلئیرڈ ہے، دئبی میں جائیداد اہلیہ نے2017 میں خریدی۔

پراپرٹی لیکس سے متعلق وضاحتی بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ جائیداد کو جمع کرائے گئے ٹیکس گوشواروں میں بھی ظاہر کیا،ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے جمع کرائے گوشواروں میں بھی اس جائیداد کو ڈیکلیئر کیا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 14 روپے تک کمی کا امکان

محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایک برس قبل جائیداد کو فروخت کر دیا تھا فروخت کردہ جائیداد کی رقم سے چند ہفتے قبل ایک اور پراپرٹی خریدی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ دبئی میں اپارٹمنٹ کے مالک ہیں،پراپرٹی لیکس پر شیر افضل مروت نے ردعمل دیا اور اعتراف کیا کہ دبئی میں وہ اپارٹمنٹ کے مالک ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دبئی میں پراپرٹی فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)اور الیکشن کمیشن میں 6 سال سے ڈکلیئر ہے،پی ٹی آئی ایم این اے نے مزید کہا کہ بیرون ملک پراپرٹی کی تصدیق ایف بی آر اور الیکشن کمیشن سے کی جاسکتی ہے۔


متعلقہ خبریں