آئی ایم ایف نے پاکستان سے سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے پر بریفنگ مانگ لی

IMF آئی ایم ایف

اسلام آباد(شہزاد پراچہ)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم  ایف ) نے پاکستانی حکام سے سرکاری افسران کے اثاثے پبلک کرنے پربریفنگ مانگ لی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کےدرمیان دوسرا جائزہ اجلاس پر کل مذاکرات کا فائنل راونڈ ہوگا۔ آئی ایم ایف نے سرکاری افسران کے ایسٹ ڈکلیریشن بارے میکنزم  اور دیگر معاملات پر وزارت خزانہ،فنانشل مانیٹرنگ یونٹ، ایف بی آر اور سٹیٹ بنک سے اہم بریفنگ مانگ لی ہے۔

سندھ، بلوچستان کےصارفین کیلئےگیس مزید مہنگی ہونے کا امکان

کل بروز پیر کو پاکستانی ٹیم آئی ایم ایف کو انٹی منی لانڈرنگ کے قانون میں ترامیم بارے بریفنگ دیں گے اسی طرح میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز کے مسودے کو بھی کل تک حتمی شکل دی جائےگی،مذاکرات کی کامیاب تکمیل سے اگلے ماہ تک پاکستان کو ایک ارب دس کروڑ ڈالر کی قسط مل جائیگی۔

واضح رہے کہ گزشتہ دونوں جاری دوسرا جائزہ اجلاسوں مں آئی ایم ایف حکام نے پاکستانی حکام کو بڑی کشمکش میں مبتلا کیےرکھا۔ پاکستانی حکام آئی ایم ایف سے اگلا بڑی مالیت کا پروگرام لینے پر بضد ہیں جبکہ آئی ایم ایف حکام ٹیکس ریونیو اور بجلی اور گیس کے گردشی قرضوں بارے تشویش کا اظہار کر چکے ہیں ۔

جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو تمام کاروباروں کے لیے واحد ٹرن اوور پر مبنی رجسٹریشن سسٹم متعارف کرائے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان تمام کاروباروں کے لیے 8.5 ملین روپے کی واحد ٹرن اوور پر مبنی رجسٹریشن کی حد متعارف کرائے۔ اسی برح آئی ایم ایف نے پرسنل انکم ٹیکس کے ریونیو پوٹینشل کو چھوٹ کی فہرست کو کم کرکے اور خاص قسم کے افراد یا آمدنی کے لیے ترجیحی ٹیکس ٹریٹمنٹ کو بڑھایا جاسکتا ہے۔

مزید برآں، افراد پر لاگو ٹیکس کی شرحوں کو ریٹ سلیبس کی تعداد کو کم کرکے اور ایک ہی پروگریسو ٹیکس اسکیل کے ذریعے آسان بنایا جائے، آئی ایم ایف نے ایف بی آر حکام کو بھی اس سے آگاہ کیا۔

تنخواہ دار/غیر تنخواہ دار طبقہ کے فرق کو ختم کرکے اور شرح سلیب کی تعداد کو چار سے کم کرکے افراد کے لیے ٹیکس کی شرح کو معقول بنانے کی تجویز دیگ گئی ہے۔

سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو تین چار کمرے دیئے ہوئے ہیں، عطااللہ تارڑ کا انکشاف

ذرائع کے مطابق ایف بی آر مخصوص شعبوں میں ملازمین کے لیے ترجیحی فوائد کو ختم کرنے یا کم کرنے، حصص میں سرمایہ کاری کے لیے ٹیکس کریڈٹ، شئیرز کی ادائیگیوں کے لیے کٹوتیاں، کل وقتی اساتذہ/محققین کے لیے ٹیکس میں کمی اور زیرو ریٹنگ کی شرح کی حد کو اسی سطح پر برقرار رکھنا اگر اسے کم کرنا ممکن نہ ہو۔ آئی ایم ایف حکام کے مطابق ان اقدامات سے جی ڈی پی کا 0.5 فیصد اضافی محصول اکٹھا کیا جا سکتاہے،


متعلقہ خبریں