فیصل آباد میں شیر اور آزاد امیدوار آمنے سامنے

Rana Sanaullah

اسلام آباد(شہزاد پراچہ)فیصل آباد میں قومی اسمبلی کی 10 سیٹوں پر پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں اور مسلم لیگ نواز کے امیدواروں میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے ۔

فیصل آباد کی دس میں سے دو سیٹوں این اے 100 اور این اے 104 پر سب کی نظر ہے ۔ این اے 100 میں مسلم لیگ نواز کے رانا ثنا اللہ اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار نثار احمد جٹ مدمقابل ہیں۔

این اے 6: ٹکر کا مقابلہ، کون کس پر بھاری؟

این اے 100 میں ٹوٹل ووٹرز کی تعداد 507880 ہیں جن میں مرد ووٹرز 274365 جبکہ خواتین ووٹرز 233515 ہیں۔ الیکشن 2018 میں مسلم لیگ نواز کے رانا ثنا اللہ نے نثار احمد جٹ کو تقریبا 1500 ووٹوں سے شکست دی تھی ۔

ماہرین کے مطابق این اے 100 میں مسلم لیگ نواز کے رانا ثنا اللہ اور نثار احمد جٹ میں مقابلہ ہے رانا ثنا اللہ پی ڈی ایم کی حکومت میں وفاقی وزیر داخلہ بھی رہے اس کے علاوہ حلقہ میں ان کا اثرو رسوخ بھی ہے اور شیر کے نشان کی وجہ سے ان کو ووٹ ملے گا۔

حال ہی میں جٹ برادری کے ایک بڑے دھڑے نے رانا ثنا اللہ کی حمایت کا اعلان بھی کیا ہے جس کے سبب رانا ثنا اللہ کی پوزیشن مستحکم ہو گئی ہے ۔

جبکہ پاکستان تحریک انصاف سے بلے کا نشان چھننے کے بعد نثار احمد جٹ اب مور کے نشان پر الیکشن لڑ رہے ہیں ، ماہرین کے مطابق بلے کا نشان نہ ہونے کی وجہ سے نثار احمد جٹ کو ووٹ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

2018 الیکشن میں ایک لاکھ سے زائد ووٹ لینے والے امیدوار

دوسری جانب این اے 104 میں مسلم لیگ نواز کے دانیال احمد اور پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار صاحبرادہ حامد رضا مدمقابل ہیں، اس حلقے میں ٹوٹل ووٹرز کی تعداد 528518 ہیں جن میں مرد ووٹرز 278634 جبکہ خواتین ووٹرز 249884 ہیں۔

اس حلقے میں 2018 الیکشن میں پی ٹی آئی کے منحرف راجہ ریاض احمد نے مسلم لیگ نواز کے مرحوم رانا افضل کو تقریبا 6000 ووٹوں سے شکست دی تھی ، راجہ ریاض نے اپریل 2022 میں پی ٹی آئی چھوڑ دی تھی جس کے سبب ان کے حلقہ میں ووٹ بینک بہت متاثر ہوا یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے راجہ دانیال احمد کو الیکشن لڑوانے کا فیصلہ کیا ۔

دوسری جانب سنی اتحاد کونسل کے چیرمین صاحبزادہ حامد رضا پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار ہیں ، حامد رضا کا اس حلقہ میں اثرورسوخ ہے ، ماہرین کے مطابق بلے کا نشان نہ ہونے کی وجہ سے صاحبزادہ حامد رضا کا ووٹ بنک متاثر ہوسکتا ہے لیکن دوسری جانب اس حلقہ میں راجہ ریاض کے پی ٹی ائی کو چھوڑنے کے سبب نوجوان ووٹرز میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جس کا حامد رضا کو فائدہ بھی ہو گا۔

حلقہ این اے 155 لودھراں، پی ٹی آئی امیدوار عفت طاہرہ سومرو کا الیکشن سے دستبرداری کااعلان

ماہرین کے مطابق مجموعی طور پر فیصل آباد سے قومی اسمبلی کی تمام 10 سیٹوں، این اے 95 میں علی افضل ساہی، این اے 96 میں رائے حیدر کھرل، این اے 97 میں علی گوہر خان، این اے 98 شہباز بابر، این اے 99 ملک عمر فاروق، این اے 100 رانا ثنا اللہ، این اے 101 میاں عرفان احمد، این اے 102 چنگیز خان کاکڑ، این اے 103 علی سرفرار اور این اے 104 میں صاحبزادہ حامد رضا کی پوزیشن مستحکم دکھائی دے رہی ہے ۔

اگر پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار الیکشن کے دن اپنے پولنگ ایجنٹس کو مئی 9 سے متعلقہ کیسز میں گرفتاری سے بچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور ووٹرز کو ووٹ ڈالنے پر آمادہ کر لیتے ہیں تو فیصل آباد میں آزاد امیدوار سرپرائز دے سکتے ہیں۔


متعلقہ خبریں