وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بجٹ کاروبار، برآمدات اور تنخواہ دار طبقے کے لیے سازگار ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت معاشی استحکام کے مرحلے سے نکل کر اب پائیدار معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پریس کانفرنس میں اقتصادی سروے کے بجائے بجٹ تجاویز پر بات کی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں برآمدات کے فروغ اور ٹیکس نظام میں بہتری پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ ان کے مطابق حکومت مسلسل برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے اور توقع ہے کہ آئی ٹی برآمدات بڑھ کر 4 ارب 50 کروڑ ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر تمام ایکسپورٹرز کے لیے سپر ٹیکس کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ مختلف شعبوں کے لیے 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی بھی فراہم کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے اور رواں سال معاشی میدان میں نمایاں پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ تعمیرات کا شعبہ معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اسی لیے اس شعبے کی حوصلہ افزائی کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔
زراعت کے شعبے کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ کسانوں کے لیے سہولتیں بڑھائی گئی ہیں اور زرعی قرضوں کی فراہمی کا حجم 20 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ بجٹ میں زرعی شعبے کی ترقی کے لیے متعدد اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کی ہے۔ سب سے کم ٹیکس سلیب پر شرح 5 فیصد سے کم کرکے 1 فیصد کر دی گئی ہے، جبکہ 15 فیصد ٹیکس والے سلیب کو کم کرکے 13 فیصد کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم کا میثاق معیشت اور جمہوریت پر زور، اپوزیشن کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دے دی
وزیر خزانہ کے مطابق ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اور کاروباری حلقوں کی جانب سے بجٹ پر مثبت ردعمل موصول ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک کاروبار دوست بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ سرمایہ کاری، روزگار اور برآمدات میں اضافہ ہو سکے۔
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ وزیراعظم کے قرض پروگرام کے لیے 262 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 125 ارب روپے صرف زرعی شعبے کے قرضوں کے لیے رکھے گئے ہیں تاکہ کسانوں کو مالی معاونت فراہم کر کے زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔
