سرکاری استعمال کیلئے 4 ٹیمپرڈ گاڑیاں فراہم کی جائیں ، نجکاری کمیشن کا ایف بی آر کو خط


اسلام آباد (شہزاد پراچہ) نجکاری کمیشن نے خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری پر کام تیز کرنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے ٹیمپرڈ گاڑیوں کا مطالبہ کر دیا۔

ذرائع نے بتایا کہ نجکاری کمیشن نے ممبر کسٹمز آپریشنز ایف بی آر کو سرکاری استعمال کے لیے پرائیویٹائزیشن کمیشن کو ٹیمپرڈ/سیکنڈ ہینڈ کاروں کی فراہمی کے حوالے سے خط لکھا ہے۔

نجکاری کے موجودہ پروگرام کے بارے میں حکومت/کابینہ کمیٹی برائے نجکاری کے فیصلوں کے مطابق، پی سی تیز رفتار بنیادوں پر پروگرام میں شامل خسارہ میں چلنے والے اداروں کی نجکاری پر غور کر رہا ہے۔

پی آئی اے کی نجکاری کیخلاف احتجاج، حکومت کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم

نجکاری کمیشن نے خط میں کہا کہ محکمہ نجکاری کے عمل کی جلد تکمیل کے لیے قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں، بینکرز، چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس، وکلاء، مالیاتی مشیروں، وزارتوں کے وفاقی سیکرٹریوں، متعلقہ کمپنیوں/تنظیموں کے سربراہوں، کے نمائندوں کے ساتھ مسلسل اجلاس کر رہا ہے۔ جس کے سبب ان کا کام بہت بڑھ گیا ہے

خط میں کہا گیا ہے کہ پی سی کے ساتھ دستیاب پرانی اور ناقابل استمال سرکاری گاڑیاں کمیشن کے مصروف شیڈول کے تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں اور ادارے کے آپریشنل کام بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

آئی ایم ایف نے یوٹیلٹی اسٹورز کی نجکاری ، بی آئی ایس پی کا بجٹ بڑھانے کا مطالبہ کر دیا

محکمہ کے مطابق موجودہ حکومت نے کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کیا ہے، اس لیے اس مرحلے پر نئی گاڑیوں کی خریداری پر غور نہیں کیا گیا لہذا ایف بی آر کمیشن کو حکومت سے حکومتی لین دین کے لیے پاکستان کسٹمز کی شرائط و ضوابط کے مطابق چار ٹیمپرڈ/سیکنڈ ہینڈ کم ایندھن استعمال کاریں فراہم کرے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں پی سی بورڈ نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کی نجکاری کے لیے مالیاتی مشیروں کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دی ہے۔

پی آئی اے کی نجکاری، ادارے کو 2 کمپنیوں میں تقسیم کرنے کیلئے اقدامات شروع

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری محکمے ایف بی آر سے بار بار درخواست کرتے ہیں کہ سرکاری استعمال کے لیے ٹیمپرڈ گاڑیاں فراہم کی جائیں لیکن اکثر اوقات افسران سرکاری کام کی بجاے گاڑیاں اپنے ذاتی استعمال میں رکھتے ہیں۔


متعلقہ خبریں