ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ، معاشی بحالی اور سیاسی استحکام آپس میں باہم جڑے ہوئے ہیں، پاکستان داخلی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت سینٹرل اپیکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں دہشت گردی کے واقعات خاص طورپر پشاورپولیس لائنز مسجد اورکراچی پولیس چیف آفس میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات اور اس کے بعد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
حساس اداروں کے نمائندوں نے سکیورٹی کی مجموعی صورتحال ، دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر شرکاءکو بریفنگ دی۔
انسپکٹر جنرل پولیس سندھ نے کراچی پولیس چیف کے دفتر پر حملے اور اب تک سامنے آنے والے حقائق سے آگاہ کیا۔ ملک بھرمیں دہشت گردی کے خلاف بے مثال شجاعت اور بہادری کا مظاہرہ کرنے پر افواج پاکستان، رینجرز، ایف سی، سی ٹی ڈی، پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سلام پیش کرتے ہوئے شہید افسران اور جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیاگیا۔
اجلاس نے کراچی پولیس اور سکیورٹی کےلئے ماضی میں منظور ہونے والے فنڈز کی عدم دستیابی کے معاملے پر غور کیا اور ہدایت کی کہ پولیس، سی ٹی ڈی اور سکیورٹی سے متعلق تمام منصوبوں کی تکمیل کی راہ میں حائل رکاوٹیں بلا تاخیر دور کی جائیں۔
قومی سلامتی اور عوام کے جان و مال کا تحفظ بنیادی آئینی فریضہ ہے جسے قومی جذبے، خلوص نیت، توجہ اور بہترین صلاحیت سے انجام دینا ہو گا۔ وفاق ،صوبوں کو امن وامان کی ذمہ داریوں کی بجا آوری میں بھرپور تعاون اور مدد فراہم کرے گا۔
سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق اجلاس نے دہشت گردی کے واقعات اور سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران میڈیا خاص طورپر سوشل میڈیا کے کردار کے حوالے سے غور کیا۔
اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ سکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران وہ معلومات بھی میڈیا پر نشر ہوجاتی ہیں جن سے دہشت گرد اوران کے سہولت کارفائدہ اٹھاسکتے ہیں اور سکیورٹی آپریشن پر اثرات بھی مرتب ہوسکتے ہیں جس سے آپریشن کرنے والے افسران اور جوانوں کی زندگیاں خطرات سے دوچار ہوجاتی ہیں۔
تجویز کیا گیا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں رائج سائبر سپیس اور دہشت گردی سے متعلق ‘ایس او پیز’ اور ضابطوں سے رہنمائی لی جائے۔ اسی تناظر میں میڈیا ہائوسز اور متعلقہ تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے مناسب طریقہ کار وضع کیاجائے تاکہ ہنگامی صورتحال میں افواہوں، گمراہ کن اطلاعات اور عوام الناس میں خوف پیدا ہونے کے تدارک کے ساتھ سکیورٹی آپریٹس کے لئے دشواریاں پیدا نہ ہوں۔
اجلاس نے یہ بھی طے کیا کہ خدانخواستہ کسی ہنگامی صورتحال میں میڈیا اور عوام تک حقائق کی فراہمی کے لئے کسی ایک فوکل پرسن کو ذمہ داری تفویض کی جائے۔ اجلاس نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور گزشتہ اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر پیشرفت کا جائزہ لیا۔
وفاقی وزیرقانون وانصاف کی سربراہی میں کمیٹی کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف تحقیقات، پراسیکیوشن اور سزا دلانے کے مراحل کو موثر بنانے کے لئے اقدامات پر پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔
اجلاس نے اتفاق کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے، معاشی بحالی اور سیاسی استحکام آپس میں باہم جڑے ہوئے ہیں، پاکستان داخلی عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا، قومی یکجہتی ، اتحاد اور اجتماعی جدوجہد وقت کی ضرورت ہے،ان اہداف کے حصول کی خاطر قومی اتفاق رائے پیدا کیا جائے اور اس راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔
