بارسلونا: کمپیوٹر سسٹم میں اینٹی وائرس ایجاد کرنے والے جان میکافی کو امریکہ میں ٹیکس چوری کے الزام میں اسپین کے دارالحکومت بارسلونا سے گرفتار کرلیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بارسلونا پولیس نے جان میکافی کو بارسلونا سے استنبول جانے والی پرواز میں سوار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کرلیا۔
امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ جان میکافی نے 2014 سے 2018 تک ٹیکس ریٹرنز جمع نہ کرائے اور اپنے اثاثے چھپائے ہیں۔ ٹینیسی کی وفاقی عدالت جان میکافی پر جون میں ٹیکس چور کے الزام میں فرد جرم عائد کردی تھی۔
ٹینیسی کے میمفس کی وفاقی عدالت نے جان مکافی کے خلاف ٹیکس چوری اور اثاثہ جات چھپانے کا کیس دوبارہ سے کھول دیا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کا کہنا ہے کہ جان میکافی نے اپنی آمدنی دوسروں کے نام پر اکاؤنٹس میں جمع کی ہے۔ جان میکافی کی اسپین سے امریکہ منتقلی ابھی باقی ہے جب کہ الزام ثابت ہونے پر انہیں 30 سال تک قید ہو سکتی ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ پاناما پیپرز کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد امریکہ میں دو افراد کو قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
امریکی میڈیا کے مطابق 74 سالہ اکاؤنٹنٹ رچرڈ گیفی کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے دو ہزار سے دو ہزار سترہ تک کئی امریکیوں کو ٹیکس چھپانے میں مدد کی۔
رچرڈ گیفی کا نام پاناما پیپرز میں سامنے آیا تھا۔ امریکہ ہی کے 83 سالہ بزنس مین ہیرالڈ جاؤشم کو بھی ٹیکس چوری پر چار سال قید کی سزا دی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: امریکی بینکوں کی ملی بھگت: دھوکے بازوں کے اربوں ڈالرز دنیا بھر میں منتقل
یاد رہے کہ چند ہفتے قبل امریکی تحقیقاتی ادارے نے انکشاف کیا تھا کہ امریکی بینکوں کی ملی بھگت سے دھوکے بازوں اور جرائم پیشہ افراد کے اربوں ڈالرز دنیا بھر میں منتقل کئے گئے ہیں۔
دستاویزات میں امریکا کے کئی بڑے بڑے بینکوں کو جرائم پیشہ افراد کی دولت مغربی ممالک میں منتقل کرنے میں ملوث قرار دیا گیا تھا۔
دستاویزات کے مطابق ان بینکوں میں جے پی مورگن، ایچ ایس بی سی، ڈوئچے بینک، بینک آف نیو یارک میلن شامل ہیں۔ مالیاتی جرائم کی تحقیقات کرنے والے امریکی ادارے فن سین کی دستاویزات آئی سی آئی جے نے لیک کی ہیں۔
