مالی سال2020کی پہلی سہ ماہی میں5.80 ارب ڈالرکا تجارتی خسارہ

تجارتی خسارہ

فائل فوٹو


اسلام آباد: مالی سال2020کی پہلی سہ ماہی میں پاکستان کو 5.80 ارب ڈالر کا تجارتی خسارہ ہوا ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پہلی سہ ماہی کے دوران برآمدات 0.94فیصد کمی سے 5.45ارب ڈالر رہیں۔ گزشتہ سال اسی عرصے میں 5.51ارب ڈالر کی برآمدات کی گئی تھیں۔

مالی سال2020 کے پہلے تین مہینوں کے دوران پاکستان کی برآمدات میں 5.2کروڑ ڈالر کمی ہوئی جبکہ مجموعی درآمدات 0.56فیصد اضافے سے 11.26ارب ڈالر رہیں۔

گزشتہ سال اس عرصے میں 11.19ارب ڈالر کی درآمدات کی گئی تھیں۔ اس سال پہلی سہ ماہی میں درآمدات میں 6.3کروڑ ڈالر کمی ہوئی۔

ستمبر2020 میں برآمدات 6.12فیصد اضافے سے 1.87ارب ڈالر رہیں۔ درآمدات 13.22فیصد اضافے سے 3.76ارب ڈالر رہیں اور ستمبر میں 19.49فیصد اضافے سے تجارتی خسارہ 2.39ارب ڈالر رہا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ختم ہوگیا، وزیراعظم

اسٹیٹ بینک نے اگست2020میں بتایا تھا کہ مالی سال 2020 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 78 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی ہے اور اس کرنٹ اکاؤٹ خسارہ جی ڈی پی کا 1.1 فیصد رہا۔ مالی سال 2019 کے اختتام پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 13ارب 43 کروڑ ڈالر تھا جو کہ جی ڈی پی کا 4.8 فیصد بنتا ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستان کے مرکزی بینک نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ 11 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کی کمی سے بینک کے ذخائر کم ہوکر 12.70 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ بیان کے مطابق 11 ستمبر تک مرکزی بینک کے ذخائر بڑھ کر 12 ارب 82 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گئے تھے۔

جولائی میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ(آمدن اور اخراجات کے درمیان فرق) ختم ہوگیا تھا اور کرنٹ اکاؤنٹ 424 ملین ڈالر سرپلس میں چلا گیا تھا۔ جولائی 2019 میں کرنٹ اکاوَنٹ خسارہ 613 ملین ڈالر تھا اور جون 2020 میں کرنٹ اکاوَنٹ خسارہ 100 ملین ڈالر تھا۔

جولائی2020میں برآمدات کی شرح نمو 19.7 فیصد رہی اورجولائی کے مہینے پاکستانیوں نے2 ارب 76 کروڑ 81 لاکھ ڈالر کی رقم بھیجی جو کہ ملکی تاریخ میں بھیجی جانے والی ایک مہینے میں سب سے زیادہ رقم ہے۔


متعلقہ خبریں