اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے نائیجریا کے صدرمحمد بوہاری سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پذیرممالک کو کورونا اورغربت کے باعث غیرمعمولی چیلنج کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کورونا کے پیش نظر اقوام متحدہ، عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کا تعاون حوصلہ افزا ہے۔
دونوں سربراہان کے درمیان کورونا سے پیدا ہونے والی صورت حال پرتبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے موجودہ صورتحال میں نائجیریا کےعوام کےساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے محمد بوہاری کو پاکستان میں کورونا کو روکنے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔
دوران گفتگو وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قومی شرح نمو اور روزگار کے مواقع کیلئے بین الاقوامی مالیاتی ادارے مزید وسائل فراہم کریں۔ موجودہ معاشی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے قرضوں میں نرمی کی عالمی تحریک کوآگے بڑھانا چاہیے۔
دوران گفتگو دونوں سربراہان نے اقوام متحدہ اور دیگر فورمز پر مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے پراتفاق کیا۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان کا مرحلہ وار لاک ڈاؤن کھولنے کا اعلان
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نائجیریا اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ پاک نائجیریا تجارت اورمعاشی تعاون کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے نائجیرین صدرکو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔
خیال رہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے رواں مالی سال کے بجٹ میں رعایتیں دینے کا اعلان کیا ہے.
دستاویز کے مطابق آئی ایم ایف نے ٹیکس وصولیوں، دفاعی بجٹ، ترقیاتی اخراجات اور سود کی ادائیگیوں میں کمی کی پاکستانی درخواست منظور کرلی ہے۔
دستاویز کے مطابق ایف بی آرکا سالانہ ٹیکس وصولی کا ہدف کم کرکے 3908 ارب روپے مقرر کر دیا گیا۔ رواں مالی سال براہ راست ٹیکس وصولی کم کر کے 1622 ارب روپے کر دی گئی۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف سے بہت بڑا ریلیف ملنے کی امید ہے، وزیر خارجہ
دستاویز کے مطابق سیلز ٹیکس کا ہدف 1852 ارب روپے سے کم کر کے 1427 ارب روپے کر دیا گیا۔
دستاویز کے مطابق پیٹرولیم سرچارج 5 ارب روپے کی کٹوتی کے ساتھ 295 ارب روپے کر دیا گیا۔ رواں مالی سال کےلیے ایف بی آر کا نظرثانی شدہ ہدف 5143 ارب روپے تھا۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے لیے ایک اعشاریہ 386 ارب ڈالرز کی منظوری دے دی تھی۔
ہم نیوز کے مطابق آئی ایم ایف کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ اضافی قرض ادئیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے کے لیے دیا گیا ہے۔
