’ہم نے گزشتہ حکومتوں کا 10 ارب ڈالر کا قرض واپس کیا‘

آلو، ٹماٹر اور مرغی کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، سیکریٹری خزانہ

وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ ہماری حکومت نے 10 ارب ڈالر کا قرض واپس کیا ہے جو سابقہ حکمرانوں نے حاصل کیا تھا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے ان ک کہنا تھا کہ ہماری پالیسیوں کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں، عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی پالیسیوں کی تعریف کر رہے ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے پہلی بار مرکزی بینک کو مالیاتی پالیسیاں بنانے کی خودمختاری دی ہے، کرنسی کی شرح تبادلہ گزشتہ کئی ماہ سے مستحکم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے 5 ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ نہیں کیا جو ایک بڑی کامیابی ہے, اسی طرح حکومتی اخراجات میں 40 ارب روپے کی کمی کی گئی جبکہ دفاعی بجٹ کو منجمد کر دیا۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت سے زیادہ کاروبار دوست اس سے پہلے کبھی نہیں آئی۔

انہوں نے بتایا کہ ملکی برآمات بڑھانے کے لیے حکومت بھرپور کوشش کر رہی ہے، 2 ہزار ارب روپے لوگوں کو واپس کیے تاکہ برآمدات میں آسانی ہو۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور حماد اظہر نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں بتایا تھا کہ حکومت نے پہلے سال کے دوران 10 ارب ڈالر سے زائد کا غیر ملکی قرضہ لیا۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ  کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ دو اعشاریہ 6 کھرب روپے کا قرضہ لینا پڑا، زیادہ نقد بیلنس کی وجہ سے تین کھرب روپے کے قرضے کا اضافہ ہوا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ حکومتی قرضے تاریخ میں پہلی بر 33 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیے ہیں۔

 


متعلقہ خبریں