اسلام آباد: رہنما پی ٹی آئی ہمایوں اختر نے کہا ہے کہ تمام وزرا محنت کر رہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان نے جو سو روزہ ایجنڈے کا ٹارگٹ دیا ہے اس کو بہتر عوامی مفاد کے لیے پورا کرنے کے لیے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
ہم نیوز کے پروگرام “پاکستان ٹونائٹ” میں میزبان ثمر عباس کے ساتھ گزشتہ دنوں میں ملک کے بڑے شہروں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ہمایوں اختر کا کہنا تھا کہ یہ سب سیاست اس ملک کے لیے ہی ہے، تمام پارٹیاں اس ملک کے لیے ہی کام کر رہی ہیں۔
اب وقت آ چکا ہے کہ سب اس معاملے پر مل بیٹھ کر قومی مفادات کے حصول کے لیے پالیسیاں بنا کر ان پر عمل درآمد کریں۔ ایک دوسرے پر تنقید کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
ہمایوں اختر کا پروگرام میں دلچسپ گفتگو کرتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ سب کو متحد ہو کر ملک کو مضبوط کرنے اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے تاثر کو مثبت طور سے دکھانے کی اشد ضرورت ہے۔
دوسری جانب پروگرام میں موجود مہمان تجزیہ کارشہزاد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دشمن ممالک کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ کراچی میں امن کی واپسی کیسے ہو چکی ہے اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا تاثر پوری دنیا میں اچھا ہو چکا ہے۔
شہزاد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ دشمن ممالک سے کراچی کی معاشی ترقی برداشت نہیں ہو رہی۔
حکومت کی آئندہ پالیسی کے سوال کے جواب میں شہزاد چوہدری نے کہا کہ نیب کے نیشنل ایکشن پلان کو سامنے رکھ کر تمام صوبائی حکومتی کو پاک چین مخالف طاقتوں کے جواب میں سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔
معروف تجزیہ کار نے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ احتساب کا عمل سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان گرے لسٹ میں ہے کل کو بلیک لسٹ میں بھی ہو سکتا ہے، ہمیں سب سے پہلے اپنے بینک قوانین میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔
پروگرام میں شریک مہمان اور صوبائی وزیر سندھ شہلا رضا کا کہنا تھا کہ ہنگو دھماکے کا واقعہ، کراچی میں چینی کونصل خانے پر دہشت گرد حملہ اور ایس پی طاہر داوڑ کی شہادت: ان تمام معاملات کے بعد تمام صوبائی قیادتوں کو مل بیٹھ کر ان شرپسند عناصر کا مقابلہ کرنے کو اولین ترجیح دینی چاہیے۔
میزبان کے ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیرسندھ نے کہا کہ مسلم لیگ نواز نے اپنے دور حکومت میں جنوبی پنجاب کے لیے کبھی کوئی خاص اقدامات نہیں کیے ہیں۔
شہلا رضا کا یہ بھی کہنا تھا کہ احتساب کے معاملے میں ہم پی ٹی آئی کے خلاف نہیں بلکہ انکے ساتھ کھڑے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی جماعت اقتدار میں آنے سے پہلے بھی صرف باتیں ہی کر رہی تھی اور ابھی تک کچھ ثابت نہیں کر پائی۔
پروگرام میں شریک رہنما بی اے پی، سینیٹر انوار الحق کاکڑ کا دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے پیچھے موجود قوتوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارت وہ واحد ملک ہے جس کو پاک چین کے مابین ہونے والا سی پیک ہمیشہ سے منصوبہ کھٹک رہا ہے۔
بھارت کبھی نہیں چاہے گا کہ ہم چین سے کسی بھی طرح قریب ہو کر اپنی ساخت کو بہتر کرنے میں کامیاب ہو سکیں۔ یہ دہشت گرد پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے نہیں روک سکتے، ملک کا ترقی کا سفر جوں کا توں جاری رہے گا۔
