اسلام آباد: صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسف زئی نے کہا کہ طاہر داوڑ کا جسد خاکی دینے میں افغان حکام نے بہت دیر کی اور ان رویہ بھی مناسب نہیں تھا۔
ہم نیوز کے پروگرام بڑی بات میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہریار آفریدی وزیراعظم کی ہدایت پر جسد خاکی لینے گئے اور ہمارے ساتھ آرمی آفیسر بھی تھے مگر برا رویہ رکھا گیا جو نامناسب تھا، افغانستان ہمارا برادر اسلامی ملک ہے اور ان کا ہم سے ایسا رویہ قابل افسوس ہے۔
افغان حکام مختلف بہانے بناتے رہے اور وہاں مشکوک افراد آکر انتشار پھیلانے کی کوشش کرتے رہے، ان کا کہنا تھا ہم میں محسن داوڑ کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/105455/” position =”left”]
ہم نے اس معاملے میں افغان حکومت سے احتجاج کیا مگر اس کمزور حکومت سے کیا احتجاج کیا جائے جو رویہ ہم نے دیکھا جب کہ ہم نے افغانوں کو جگہ دی مگر ان کی طرف سے غیر مناسب رویہ رکھا گیا۔
مقامی صحافی سیف اللہ محسود نے کہا کہ طاہر داوڑ ایک بہادر افسر تھا، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس نے بہت کامیاب کارروائیاں کی تھیں، جنگ میں پشتون بن کر لڑتے تھے، ان پر پہلے بھی حملے ہوئے، سویلین حکومت کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والوں کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے، مقامی لوگوں میں بہت غصہ ہے، حکومت کی جانب سے اس کیس کودرسے انداز میں نہیں سنبھالا جا رہا۔
پروگرام میں سینٹ انتخابات کے بارے میں سینیئر صحافی سلیم بخاری نے کہا کہ پنجاب پر حکومت کرنا دو تہائی پاکستان پر حکومت کرنا ہے۔ آج کے الیکشن سے دو باتیں ثابت ہوئیں ایک یہ کہ نواز لیگ کی پوزیشن اب تک مستحکم ہے اوردوسرا یہ کہ تحریک انصاف پنجاب میں سیاسی طور پر نقصان ہوا ہے ۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/105487/” position =”left”]
پنجاب میں تحریکِ انصاف کے کئی پاور ہاوسز ہیں اور ایسے میں گورننس مشکل ہو جاتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جلد یا بدیر عمران خان کو عثمان بزدار کو وزیرِ اعلیٰ بنانے کے فیصلے پر نظر ثانی کرنا ہی پڑے گی۔ پہلے ہی گورننس اور ڈلیوری کے معاملوں پر تحریکِ انصاف کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
نواز شریف کے اپنی پارلیمانی تقریر سے متعلق عدالت میں اثتثنیٰ مانگنے اور قطری خط سے متعلق لا تعلقی کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ نواز مائزہ حمید کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کے بیانات میں کوئی بدلاؤ نہیں اور انہوں نے تمام ثبوت اپنے وکلاء کے ذریعے عدالت میں پیش کر دیے۔ قطری خطوط کی بجائے اقامہ پر ہی نواز شریف کو کیوں سزا دی گئی۔
اس مسئلے پر قانونی رائے دیتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ شائق عثمانی کا کہنا ہےکہ آئین کے مطابق پالیمان میں کی جانے والی تقریر پر کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جا سکتی البتہ قطری خط سے لاتعلقی کے اظہارسے انہیں قانونی طور پر نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
البتہ ان کے بچوں کا پاکستانی شہری نہ ہونا انہیں یہاں آنے کا پابند نہیں کرتا مگر اسحاق ڈار کو پاکستانی شہری ہونے کے باعث قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
