کراچی: پاکستانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ماہی گیری میں مصروف 12 بھارتیوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ کارروائی پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے کی۔
ہم نیوز کے مطابق کارروائی کھلے سممدر میں کی گئی۔ پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے کارروائی کے دوران دو کشتیوں کو بھی قبضے میں لیا ہے۔
پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی کی جانب سے کھلے سمندر میں کارروائی کی گئی۔ کارروائی کے دوران پاکستانی سمندری حدود میں غیر قانونی ماہی گیری کرنے پر 12 بھارتی ماہی گیروں کو گرفتار کر لیا گیا۔
ہم نیوز کے مطابق گرفتاربھارتی ماہی گیروں کو ابتدائی تفتیش کے بعد مزید قانونی کارروائی کے لیے ڈاکس پولیس کے سپرد کردیا گیا ہے۔ کارروائی میں پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے جہازوں اور تیز رفتار کشتیوں نے حصہ لیا۔
بھارتی ماہی گیروں کی بڑی تعداد وقتاً فوقتاً پاکستانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مچھلیوں کو پکڑتی ہے جس کا براہ راست نقصان پاکستانی ماہی گیروں کو اٹھانا پڑتا ہے۔
بھارتی ماہی گیر زیادہ تر ان مشینی جالوں کا استعمال کرتے ہیں جو مچھلیوں کے نہایت چھوٹے بچے بھی پکڑ لیتے ہیں۔ اس وجہ سے پاکستانی سمندری حدود میں آبی مخلوق کی افزائش نسل شدید طریقے سے متاثر ہورہی ہے۔ پاکستانی ماہی گیر تسلسل کے ساتھ اس پر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کراتے آئے ہیں۔
سمندروں کی نگرانی پر مامورپاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی اطلاع ملنے پر فوری کارروائی کرتے ہوئے غیرقانونی طورپر مچھلی کے شکار میں مصروف ماہی گیروں کو گرفتار کرتی ہے جنہیں پولیس کے سپرد کیا جاتا ہے۔ قانونی کارروائی کے بعد گرفتار غیرملکیوں کو جیل بھیج دیا جاتا ہے۔
پاکستانی سمندری حدود کی زیادہ تر خلا ف ورزی میں بھارتی ماہی گیر ملوث ہوتے ہیں۔ حکومت پاکستان اکثر و بیشتر محض انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھارتی ماہی گیروں کو واہگہ بارڈر کے راستے انہیں وطن واپس جانے کی اجازت دیتی ہے۔
بھارتی سیکیورٹی فورسز جواباً ان معصوم پاکستانی ماہی گیروں کو گرفتار کرلیتی ہے جو اپنی ہی سمندری حدود میں ماہی گیری کررہے ہوتے ہیں۔ اس کارروائی میں بھارت کی نیوی افواج بھی ملوث ہوتی ہے جو اکثر و بیشتر پاکستانی حدود سے ماہی گیروں کو پکڑ لیتی ہے اور یا ان کو نشانہ بناتی ہے جو سمندری طوفان کے سبب ملکی حدود سے نکل جاتے ہیں۔
[post-relate link=”https://humnews.pk//latest/85972/” position =”right”]
پاکستانی جیلوں میں قید رہنے والے بھارتی ماہی گیر واپس جاتے ہوئے شکریہ ادا کرتے ہیں جب کہ بھارتی جیلوں سے وطن واپس آنے والے ظلم و جبر اور انسانیت سوز مظالم کی وہ حقیقی ’کہانی‘ سناتے ہیں کہ روح تک کانپ جاتی ہے۔
بھارتی حکام گرفتار کیے جانے والے پاکستانی ماہی گیروں کے ساتھ جو رویہ اپناتے ہیں اس کی اجازت انسانی حقوق کمیشن اور اقوام متحدہ بھی نہیں دیتی ہے بلکہ وہ ان کے چارٹرز کی صریحاً خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔
ماضی میں بھارتی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں گزار کرکے وطن واپس آنے والے پاکستانیوں نے یہ شکایت بھی کہ انہیں جیل حکام جاسوس تصور کرتے ہیں جس کی وجہ سے انتہائی غیر متعلقہ اور حساس نوعیت کے سوالات پوچھتے ہیں جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا ہے۔
پاکستانی ماہی گیروں کو جواب نہ دینے پر بھارتی حکام انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بناتے ہیں اور تضحیک آمیز رویہ رکھتے ہوئے انسانی حقوق کے چارٹر کو بھی بھول جاتے ہیں۔
پاکستان مختلف بین الاقوامی فورمز پر یہ مسئلہ اٹھا چکا ہے لیکن بھارتی حکام کے کان پر جوں تک نہیں رینگی ہے۔
