کراچی احتساب عدالت میں سندھ پولیس کرپشن کیس کی سماعت

sindh police

کراچی: احتساب عدالت میں سندھ پولیس کی جعلی بھرتیوں اورکرپشن پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ 

کیس میں نامزد ملزم سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی، ایس ایس پی غلام نبی کیریو اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔  ہفتہ کے روز دوران سماعت نیب کے گواہ ڈی آئی جی نعیم شیخ کے بیان پر ملزمان کے وکلاء نے جرح جاری رکھا۔ 

احتساب عدالت نے ریفرنس کی مزید سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی، ملزمان پر سندھ پولیس میں 881 غیر قانونی بھرتیوں کا الزام ہے۔

نیب کے مطابق جعلی بھرتیوں کے ذریعے محکمے کو 50 کروڑ 46 لاکھ 61 ہزار 664 روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

مقدمہ کے مطابق ملزمان نے ایس آر پی (سندھ ریزرو پولیس) حیدرآباد کے لئے کانسٹیبلزاورکمپیوٹر آپریٹرز سمیت دیگر عہدوں پر 881 جعلی بھرتیاں کی تھیں۔

عدالت میں نیب نے ملزمان کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال، بدعنوانی اور اقربا پروری سمیت دیگر دفعات کے تحت ریفرنس دائر کیا ہے۔

نیب کی جانب سے نامزد تمام ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کررکھی ہے۔

سندھ پولیس میں تاریخ کے سب سے بڑی قرار دی جانے والی کرپشن کے ملزم غلام حیدر جمالی کو گیارہ مارچ 2016 کو آئی جی سندھ کےعہدے سے ہٹایا گیا تھا۔

وفاقی حکومت نے ان کی جگہ اللہ ڈنوخواجہ (اے ڈی خواجہ) کو آئی جی سندھ کے منصب پر فائز کیا تھا۔ اے ڈی خواجہ اس وقت ایڈیشنل آئی جی اسپیشل برانچ سندھ کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

غلام حیدر جمالی کے خلاف جعلی بھرتیوں کی تحقیقات تین رکنی کمیٹی نے کی تھی جو سندھ پولیس ہی کے افسران تھے۔ تحقیقاتی کمیٹی اے ڈی خواجہ، ڈاکٹر ثنااللہ عباسی اورنعیم شیخ پر مشتمل تھی، نیب کو بھرتیوں کی تحقیقات کرنےکے احکامات سپریم کورٹ نے جاری کئے تھے۔

 


متعلقہ خبریں