وزیراعظم کے مشیر اور مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ حکومتی کشیدگی ختم ہونی چاہیے، ان کے بیٹے اور پارٹی رہنماؤں کو بھیجے گئے نوٹسز کے حق میں نہیں ہوں، ان سے فائدے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے جبکہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی سیاست سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرنے والی نہیں۔
واضح رہے کہ اسعد محمود اپریل 2022ء سے اگست 2023ء تک وفاقی وزیر مواصلات رہے، اس دوران پاکستان پوسٹ آفس بھی وزارت مواصلات کے ماتحت تھا، نیب پاکستان پوسٹ آفس میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کر رہا ہے، اسی سلسلے میں نیب راولپنڈی نے اسعد محمود کو 10 نومبر کو طلب کرتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہو کر اپنا مؤقف دینے کی ہدایت کی ہے۔
ہم نیوز کے پروگرام ” ہم دیکھیں گے” میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ امریکا عالمی طاقت ہے، اس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہتر ہونے چاہئیں، آج مخالفین کہتے ہیں کہ آپ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بہت قریب ہیں، حالانکہ ایک وقت تھا جب یہی لوگ ہمیں ٹرمپ سے ڈرایا کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں تو ایران کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہیں، سعودی عرب بھی پاکستانی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہا ہے، ان تعلقات سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کو بھی فائدہ ہوگا اور یہ پاکستان کے مفاد میں ہیں۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے بیٹے اور ان کی جماعت کے رہنماؤں کو بھیجے گئے نوٹسز کے حق میں نہیں ہوں۔ حکومت اورمولانا فضل الرحمان کے درمیان کراس فائر بند ہونا چاہیے، نوٹسز سے نقصان ہو سکتا ہے، فی الحال اس کا کوئی فائدہ نظر نہیں آ رہا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مولانا فضل الرحمان کی جماعت سمیت تمام علاقائی سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینا چاہیے، وزیراعظم کی سوچ بھی مولانا فضل الرحمان کے بارے میں مثبت ہے، تاہم مولانا غصے میں ہیں اور ان کے بیانات بھی اسی غصے کا اظہار ہیں اگرکہیں غلط فہمی پیدا ہوئی ہے تواسے بیٹھ کرحل کرنا چاہیے۔
مشیر وزیراعظم نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے کسی عہدے کا مطالبہ کیا تھا، وہ ان ملاقاتوں میں خود شریک تھے اور مولانا نے کسی عہدے کی خواہش ظاہر نہیں کی، مولانا فضل الرحمان کی جماعت خیبرپختونخوا کی ایک سیاسی حقیقت ہے، انہیں بھی نظام کا حصہ بنانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی بڑے تعاون کرنے والے ہیں اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار ہیں۔
بانی پی ٹی آئی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ان کی سیاست سیاسی جماعتوں کے ساتھ بیٹھنے والی نہیں، وہ معاملات طے کرنا ہی نہیں چاہتے اور کسی کی بات سننے کو تیار نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پلوامہ واقعے پر ہونے والے اجلاس میں بانی پی ٹی آئی اس لیے شریک نہیں ہوئے تھے کہ انہیں اپوزیشن لیڈر سے ہاتھ ملانا پڑتا۔ اس وقت بھی ان کا رویہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل بیٹھنے کے حوالے سے مناسب نہیں تھا۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ سے پہلے مذاکرات میں پی ٹی آئی کو بتایا تھا کہ وقت کے ساتھ تمام معاملات بہتر ہو سکتے ہیں، تاہم پارٹی کے سوشل میڈیا اور یوٹیوبرز کے رویے سے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ معاہدہ نہیں کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ساڑھے 9 بجے معاہدے پر دستخط ہونا تھے لیکن پی ٹی آئی سوشل میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئی۔
مذاکرات کے دوران ہم نے واضح کیا تھا کہ ملاقات کے مقام سے متعلق بات کو عوامی سطح پر نہ لایا جائے، اگر وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات نہیں کرنا چاہتے تو کسی دوسری جگہ بھی ملاقات کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی وزیراعظم ہاؤس آکر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے تو بات آگے نہیں بڑھ سکتی۔ جب وہ شہباز شریف کو وزیراعظم ہی تسلیم نہیں کرتے تو پھر ان سے ملاقات کیوں کریں گے؟
رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن لیڈر وزیراعظم سے ملاقات نہیں کرتے تو قانون کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اپنا کام اسی طرح انجام دیں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وفاقی وزیر چودھری سالک حسین کے درمیان پیدا ہونے والے معاملے پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ اس معاملے کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر چودھری سالک حسین کے پاس شواہد موجود نہیں تو انہیں ایسی بات نہیں کرنی چاہیے تھی۔ مریم نواز نے کرپشن کے معاملے پر جو وضاحت دی ہے وہ درست ہے تاہم انہوں نے چیلنج کیا ہے تو اب شواہد سامنے لانے چاہئیں۔
نئے صوبوں کے قیام سے متعلق سوال پر مشیر وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ ن فی الحال نئے صوبے بنانے کے حق میں ہے اور نہ ہی اس کی مخالفت کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام سے متعلق فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے، اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔
رانا ثنا اللہ نے معدنیات کے شعبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پاس فی الحال معدنیات نکالنے کی صلاحیت بھی موجود نہیں اور یہ معاملہ ابھی کافی دور ہے، اس شعبے میں ترقی کیلئے صلاحیت اور وسائل پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ معاملات بہتر بنانے اور قومی امور پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی خواہاں ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا دیگر قومی معاملات، تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔



