امریکا کے 2026 کے مڈ ٹرم الیکشن میں کئی امیدواروں نے تاریخ رقم کی ہے۔ خاص طور پر خواتین اور اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے امیدواروں نے امریکی سیاست میں کئی دہائیوں سے قائم رکاوٹیں توڑی ہیں۔ ان کامیابیوں میں امریکا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر، پہلے مسلمان سینیٹر اور پہلے اعلانیہ ہم جنس پرست مرد سینیٹر کا انتخاب شامل ہے۔
ملک بھر میں گورنر اور کانگریس کے انتخابات میں بھی کئی امیدواروں نے کامیابی حاصل کرکے سیاہ فام، لاطینی، مقامی امریکی اور ایل جی بی ٹی کیو پلس کمیونٹی کی سیاسی نمائندگی میں اضافہ کیا۔
منگل کو ہونے والے انتخابات میں ڈیموکریٹس نے نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لی ہے اور کئی ایسی ریاستوں میں بھی گورنر کے انتخابات جیت لیے ہیں جہاں پہلے ریپبلکنز کی حکومت تھی۔ یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے۔
ذیل میں 2026 کے امریکی مڈ ٹرم الیکشن کی چند اہم تاریخی کامیابیاں پیش کی گئی ہیں:
امریکا کے پہلے مسلمان سینیٹر
ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید مشی گن سے امریکی سینیٹ کی نشست جیت چکے ہیں۔ اس کامیابی کے ساتھ وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان رکن بن گئے ہیں۔
ان کی کامیابی سے ڈیموکریٹس کو اپنی ایک اہم نشست برقرار رکھنے کا موقع ملا جو پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کے لیے بھی نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی جو سابق رکن کانگریس اور ایف بی آئی کے سابق ایجنٹ ہیں۔ یہ نشست ریٹائر ہونے والے ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی جگہ خالی ہوئی تھی۔

عبدل السید نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنے خطاب میں کہا: ’آج ہم نے ان شاء اللہ کو الحمدللہ میں بدل دیا ہے۔‘
42 سالہ عبدل السید صحت عامہ کے سابق عہدیدار ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں محنت کش خاندانوں کے اخراجات کم کرنے اور سیاست میں بڑی کمپنیوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے پر توجہ دی۔
ان کے انتخابی منشور میں ’صحت عامہ کی سہولیات سب کے لیے‘ (میڈی کیئرفار آل) پروگرام بھی شامل تھا۔ یہ حکومت کی مالی معاونت سے چلنے والا صحت عامہ کا ایک جامع پروگرام ہے جس کی ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند حلقے حمایت کرتے ہیں۔
63 سالہ مائیک راجرز کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کی قومی قیادت کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ انہوں نے عبدل السید کو مبینہ طور پر اخوان المسلمون سے تعلقات کی بنیاد پر اسلامی انتہا پسندی کا حامی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ تاہم عبدل السید نے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا۔ جبکہ ڈیموکریٹس نے بھی ان الزامات کو اسلاموفوبک اور دقیانوسی تصورات پر مبنی قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔
“TONIGHT WE TURN THAT INSHA’ALLAH INTO AN ALHAMDULILLAH”
Abdul El-Sayed during his victory speech as the FIRST MUSLIM SENATOR IN U.S. HISTORY. 🇺🇸 https://t.co/SEmI5xQOsr
— Muslim (@Muslim) November 4, 2026
عبدالسید نے اپنے خطاب کامیابی کے بعد کہا، ’مشی گن کی عظیم ریاست کی خدمت کے لیے امریکی سینیٹ میں جانے پر مجھے فخر ہے۔ مشی گن کے لوگو! ہم نے وہ کردکھایا جسے ناممکن کہا جا رہا تھا، ہم نے مل کر یہ جیت حاصل کی اور اب اصل کام شروع ہوگا۔‘
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ عبدل السید کے مخالف ریپبلکن پارٹی کے مائیک راجرز نے انتخابی مہم کے دوران ان تمام یہودی ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کی بھی کوشش کی تھی جو اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کی مخالفت اور غزہ میں اسرائیلی اقدامات کو نسل کشی قرار دینے کے عبدل السید کے مؤقف پر تحفظات رکھتے تھے۔
It is my honor and privilege to be headed to the US Senate to serve the great state of Michigan.
Michigan, we did what they said couldn’t be done. We won. Together. Now the real work begins. https://t.co/ITgNRyUkNc
— Dr. Abdul El-Sayed (@AbdulElSayed) November 4, 2026
انتخابی مہم کے آخری دنوں میں راجرز نے ایران جنگ اور کینیڈا کے ساتھ امریکی تجارتی تنازع پر بھی صدر ٹرمپ سے اختلاف کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کاروباری اداروں اور صارفین کے اخراجات کم کرنے کے لیے ان دونوں تنازعات کا خاتمہ ضروری ہے۔
عبدل السید کی کامیابی امریکی سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے۔
امریکا کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر
ڈیموکریٹ امیدوار کیشا لانس باٹمز نے بھی امریکی تاریخ کی پہلی سیاہ فام خاتون گورنر بننے کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔ انہوں نے جارجیا میں ریپبلکن کاروباری شخصیت رک جیکسن کو شکست دے کر یہ کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
امریکا کی 200 سالہ تاریخ میں ایسا پہلا بار ہوا ہے کہ کسی خاتون یا سیاہ فام امریکی کو ریاست کے اعلیٰ ترین منتخب عہدے پر کامیابی ملی ہے۔

باٹمز 2018 سے 2022 تک اٹلانٹا کی میئر رہ چکی ہیں۔ وہ ان خواتین میں شامل تھیں جن پر سابق صدر جو بائیڈن نے 2020 کے صدارتی انتخابات میں اپنے نائب صدر کے ممکنہ امیدوار کے طور پر غور کیا تھا۔
Ahead of Election Day, Keisha Lance Bottoms, the first Black woman elected governor in the U.S., visited the grave of her great-great-grandmother, who was born 20 years before Emancipation.
Bottoms said she’s standing on “shoulders of steel.” https://t.co/DiVNLFMPgC https://t.co/64YJr9zShw
— The Washington Post (@washingtonpost) November 4, 2026
بعد ازاں انہوں نے بائیڈن انتظامیہ میں وائٹ ہاؤس آفس آف پبلک انگیجمنٹ کی ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔
انہوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران میڈیکیڈ کی سہولت میں توسیع، گھروں کے مالکان کو پراپرٹی ٹیکس میں ریلیف اور تعلیم کے لیے فنڈز میں اضافے پر خاص توجہ دی۔ ان کی کامیابی سے جارجیا میں کئی دہائیوں بعد گورنر کا عہدہ دوبارہ ڈیموکریٹس کے پاس آگیا ہے۔
امریکی سینیٹ میں پہلے ہم جنس پرست مرد رکن کی انٹری
ڈیموکریٹ امیدوار کرس پاپاس نیو ہیمپشائر سے سینیٹ کا انتخاب جیت کر امریکی سینیٹ کے پہلے اعلانیہ ہم جنس پرست مرد رکن بن گئے ہیں۔
ایوان نمائندگان کے 4 مرتبہ منتخب ہونے والے رکن پاپاس نے ریپبلکن امیدوار اور سابق سینیٹر جان ای سنونو کو شکست دی۔ یہ نشست ڈیموکریٹ سینیٹر جین شاہین کے ریٹائر ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

ان کی کامیابی سے ڈیموکریٹس یہ نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہے اور کانگریس کے ایوان بالا میں ایل جی بی ٹی کیو پلس کمیونٹی کو نمائندگی بھی حاصل ہوئی۔
نیو ہیمپشائر کا یہ انتخاب ریپبلکنز کے لیے سینیٹ کی ایک نشست حاصل کرنے کے بہترین مواقع میں شمار کیا جا رہا تھا۔
امریکا کی پہلی مقامی امریکی خاتون گورنر
ڈیموکریٹ ڈیب ہالینڈ نے نیو میکسیکو میں گورنر کا انتخاب جیت کر امریکا کی پہلی مقامی امریکی خاتون گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
ہالینڈ لیگونا پیوبلو قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں امریکی وزیر داخلہ رہ چکی ہیں۔ اس عہدے پر فائز ہونے والی وہ پہلی مقامی امریکی شخصیت تھیں جنہیں کسی وفاقی کابینہ کے محکمے کی سربراہی کا موقع ملا۔

وہ 2018 میں بھی ایسی ہی تاریخ رقم کرچکی ہیں۔ اس وقت وہ ان 2 مقامی امریکی خواتین میں شامل تھیں جو پہلی مرتبہ امریکی ایوان نمائندگان کے لیے منتخب ہوئی تھیں۔
گورنر کے انتخاب میں ان کی کامیابی امریکی سیاست میں مقامی آبادی کی نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے۔
امریکی سینیٹ کی پہلی مقامی امریکی خاتون رکن
ڈیموکریٹ پیگی فلینیگن نے مینیسوٹا میں ریپبلکن امیدوار مشیل ٹافویا کو شکست دے کر امریکی سینیٹ کی پہلی مقامی امریکی خاتون رکن بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
فلینیگن وائٹ ’ارتھ بینڈ آف اوجیبوے‘ قبیلے سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہ اس سے قبل مینیسوٹا کی لیفٹیننٹ گورنر اور ریاستی اسمبلی کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔

ان کی کامیابی سے امریکی کانگریس کے ایوان بالا میں مقامی آبادی کی نمائندگی کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت ہوئی ہے۔
فلینیگن کی کامیابی سے ڈیموکریٹس کو روایتی طور پر ریپبلکنز کے مضبوط سمجھے جانے والے علاقوں میں کامیابیاں اور بعد ازاں سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے میں مدد ملی۔
فلوریڈا کے پہلے سیاہ فام گورنر
ریپبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز نے ڈیموکریٹ امیدوار ڈیوڈ جولی کو شکست دے کر فلوریڈا کے پہلے سیاہ فام گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
ڈونلڈز کانگریس کے رکن ہیں اور انتخابی مہم کے دوران انہیں صدر ٹرمپ کی حمایت بھی حاصل تھی۔
انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں ٹیکس اصلاحات، ڈیٹا سینٹرز کو ضابطوں کے تحت لانے اور صدر ٹرمپ کے سیاسی ایجنڈے کی حمایت پر توجہ دی۔

ان کی کامیابی فلوریڈا کے اعلیٰ ترین منتخب عہدے پر سیاہ فام امریکیوں کی نمائندگی کے حوالے سے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔
ڈونلڈز امریکا میں سیاہ فام گورنرز کے بڑھتے ہوئے گروپ میں شامل ہوجائیں گے۔ اس گروپ میں جارجیا کی کیشا لانس باٹمز اور میری لینڈ کے ڈیموکریٹ گورنر ویس مور بھی شامل ہیں، جنہوں نے دوبارہ انتخاب جیتا ہے۔
یہ تینوں گورنرز مختلف سیاسی جماعتوں اور نظریاتی مؤقف کی نمائندگی کرتے ہیں۔
وسکونسن کے پہلے سیاہ فام گورنر
ڈیموکریٹ امیدوار ڈیوڈ کراؤلی ریپبلکن امیدوار ٹام ٹفنی کو شکست دے کر وسکونسن کے پہلے سیاہ فام گورنر بنے ہیں۔
کراؤلی اس سے قبل ملواکی کاؤنٹی کے ایگزیکٹو کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے موجودہ ڈیموکریٹ گورنر ٹونی ایورز کی جگہ لینے کے لیے ہونے والے اس اہم انتخاب میں کامیابی حاصل کی۔

ان کی کامیابی سے ریاستی قیادت میں سیاہ فام امریکیوں کی نمائندگی کے حوالے سے ایک اور تاریخی اضافہ ہوا ہے۔
اس کامیابی سے ڈیموکریٹس وسکونسن میں گورنر کا عہدہ اپنے پاس برقرار رکھنے میں بھی کامیاب رہے۔ وسکونسن امریکا کی اہم انتخابی مقابلے والی ریاستوں میں شمار ہوتی ہے۔
ٹیکساس کی پہلی لاطینی خاتون گورنر
ڈیموکریٹ امیدوار جینا ہینوجوسا بھی ریپبلکن گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دے کر ٹیکساس کی پہلی لاطینی خاتون گورنر بننے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔
ان کی کامیابی کے ساتھ وہ 1995 میں این رچرڈز کے عہدہ چھوڑنے کے بعد ٹیکساس کی پہلی ڈیموکریٹ گورنر بھی بن گئی ہیں۔

آسٹن سے تعلق رکھنے والی ہینوجوسا ریاستی قانون ساز اور وکیل ہیں۔ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں مہنگائی میں کمی، سرکاری تعلیمی نظام میں بہتری اور سیاسی فنڈنگ کرنے والے افراد کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے پر توجہ دی تھی۔
ان کی انتخابی مہم میں اسقاط حمل، تعلیم اور امیگریشن جیسے متنازع معاملات بھی شامل تھے۔ انہوں نے روایتی طور پر قدامت پسند سمجھی جانے والی ریاست میں ریپبلکنز کی بالادستی کو بھی چیلنج کیا۔
ہینوجوسا کی کامیابی ٹیکساس کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی اور ریاست میں لاطینی کمیونٹی کی نمائندگی کے حوالے سے تاریخی پیش رفت ہے۔
اوہائیو کی پہلی خاتون گورنر
ڈیموکریٹ امیدوار ایمی ایکٹن بھی ریپبلکن امیدوار وویک راماسوامی کو شکست دے کر اوہائیو کی پہلی خاتون گورنر بن گئی ہیں۔ 2006 کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی ڈیموکریٹ نے اوہائیو میں گورنر کا انتخاب جیتا ہے۔
ایمی ایکٹن پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور کورونا وبا کے دوران اوہائیو کی ہیلتھ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔

ان کی انتخابی مہم میں عوام کے اخراجات کم کرنے، پراپرٹی ٹیکس میں ریلیف اور صحت کی سہولتوں پر توجہ دی گئی۔ انہوں نے نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر پابندی کی تجویز بھی دی تھی تاآنکہ وہ اپنے بجلی کے اخراجات خود برداشت نہ کریں۔
اس انتخاب کو قومی سطح پر خاص توجہ حاصل رہی کیونکہ راماسوامی کو صدر ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی اور انتخابی مہم کے آخری ہفتوں میں دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلہ مزید سخت ہوگیا تھا۔
کیلیفورنیا کے پہلے منتخب لاطینی گورنر
کیلیفورنیا میں بھی ایک تاریخ رقم ہوئی ہے جہاں ڈیموکریٹ امیدوار زیویئر بیسیرا نے ریپبلکن امیدوار اسٹیو ہلٹن کو شکست دے کر ریاست کے پہلے منتخب لاطینی گورنر بننے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔
بیسیرا اس سے قبل امریکی ایوان نمائندگان کے رکن، کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل اور سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں وزیر صحت و انسانی خدمات رہ چکے ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری انتخاب کے بعد وہ گورنر کے عہدے کے لیے پارٹی کے امیدوار نامزد ہوئے تھے۔ وہ موجودہ گورنر گیون نیوسم کی جگہ عہدہ سنبھالیں گے۔
ان کی کامیابی کیلیفورنیا میں لاطینی کمیونٹی کی نمائندگی کے حوالے سے ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ اس ریاست میں امریکا کی سب سے بڑی ہسپانوی آبادیوں میں سے ایک آباد ہے۔



