پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینئر رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی کوٹ لکھپت جیل میں طبیعت ناساز ہوگئی۔
ان کے وکیل بیرسٹر تیمور ملک کے مطابق وہ جیل میں چہل قدمی کے دوران اچانک بے ہوش ہوکر گر پڑے، جس کے نتیجے میں انہیں چوٹیں بھی آئیں۔
شاہ محمود قریشی کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کی طبیعت اچانک خراب ہوئی اور وہ بے ہوشی کی حالت میں زمین پر گر گئے۔ گرنے کے باعث انہیں جسم پر چوٹیں آئی ہیں، جس کے پیش نظر فوری طبی معائنے کی ضرورت ہے۔
وکیل کے مطابق شاہ محمود قریشی کا فوری سی ٹی اسکین اور مکمل طبی معائنہ کرانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی جا رہی ہے تاکہ ان کی صحت کی صورت حال کا درست اندازہ لگایا جاسکے اور ضرورت کے مطابق علاج کی سہولت فراہم کی جاسکے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ شاہ محمود قریشی کو کسی مقدمے میں سزا نہیں ہوئی، اس لیے ان کی عمر اور صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کیا جانا چاہیے۔
آج کوٹ لکھپت جیل میں دورانِ سماعت شاہ محمود قریشی صاحب نے مجھے اور اپنے اہلِ خانہ کو بتایا کہ جیل میں اپنی بیرک کے احاطے میں چہل قدمی کے دوران اچانک بے ہوش ہو کر گر پڑے، جس سے ان کے جسم پر چوٹیں بھی آئیں۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کے مشورے پر ہم ان کے فوری سی ٹی اسکین اور مناسب طبی معائنے و علاج کے لیے عدالت میں درخواست دائر کر رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی کو کسی مقدمے میں سزا نہیں ہوئی۔ تین سال سے زائد قید کے باوجود لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں ان کی ضمانت کی دو درخواستیں تاحال زیرِ التوا ہیں۔ اسی نوعیت کے دیگر مقدمات میں بریت، ان کی عمر، صحت اور طویل قید کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں میرٹ پر ضمانت ملنی چاہیے۔
آخر ایک شخص کو بغیر کسی سزا کے کب تک جیل میں رکھا جائے گا؟ انصاف میں مسلسل تاخیر بذاتِ خود ناانصافی ہے۔
— Taimur Malik (@taimur_malik) November 4, 2026
شاہ محمود قریشی کی گرفتاری اور قید کا پس منظر
اگست 2023: سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں گرفتار کیا گیا۔ اس وقت سے وہ مسلسل زیرِ حراست ہیں۔جنوری 2024: سائفر کیس میں انہیں سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ 10، 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
جون 2024: اسلام آباد ہائی کورٹ نے سائفر کیس میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزائیں کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کردیا تاہم دیگر مقدمات کے باعث ان کی رہائی ممکن نہ ہوسکی۔
جولائی 2024: انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا، اس منتقلی کی وجہ لاہور میں 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمات کی سماعت بتائی گئی۔
مئی 2025: دل میں تکلیف کی شکایت پر انہیں کوٹ لکھپت جیل سے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا تھا۔
اکتوبر اور نومبر 2025: انہیں پتے میں پتھری کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی سرجری ہوئی۔ بعد ازاں صحت بہتر ہونے پر انہیں دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا۔
ضمانت کی درخواستوں پر بھی سماعت جاری
شاہ محمود قریشی کے خلاف 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق متعدد مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ ان میں جناح ہاؤس حملہ، عسکری ٹاور حملہ، شادمان پولیس اسٹیشن کو نذرِ آتش کرنے اور دیگر جلاؤ گھیراؤ کے واقعات سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔
یکم نومبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق جناح ہاؤس کے قریب پولیس گاڑیاں جلانے کے مقدمے میں ان کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، تاہم استغاثہ کی جانب سے ریکارڈ پیش نہ کیے جانے پر عدالت نے سماعت 7 نومبر تک ملتوی کردی۔



