امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ صدر ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن کو اقتدار میں ہونے کے باوجود بری شکست ہوئی، صدر ٹرمپ اور ان کے سیاسی ایجنڈے کے خلاف ووٹرز کے واضح ردعمل کی وجوہات بھی سامنے آ گئیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کے مضبوط سمجھے جانے والے کئی علاقوں میں بھی کامیابی حاصل کی۔ انتخابی نتائج میں توقع سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر ڈیموکریٹس کی کامیابی سامنے آئی، جسے امریکی سیاست میں اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹیکساس میں ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو نے ریپبلکن کین پیکسٹن کو شکست دے کر 38 سال بعد ریاست سے منتخب ہونے والے پہلے ڈیموکریٹ سینیٹر بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ جنوبی کیرولائنا میں اینی اینڈریوز نے ریپبلکن سینیٹر ڈارلین گراہم کو شکست دے کر تاریخ رقم کی، جہاں ڈیموکریٹس رواں صدی میں پہلے کبھی سینیٹ کی نشست نہیں جیت سکے تھے۔
اسی طرح اوہائیو میں ڈیموکریٹ شیروڈ براؤن نے کامیابی حاصل کی، جبکہ کنساس میں ایڈم ہیملٹن نے ریپبلکن سینیٹر راجر مارشل کو شکست دی۔ کنساس میں ڈیموکریٹس نے آخری مرتبہ 1932 میں سینیٹ کی نشست جیتی تھی۔
ڈیموکریٹس کی ہر انتخابی حلقے سے امیدوار کھڑے کرنے کی حکمت عملی
دونوں جماعتوں کے عہدیداروں کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی میں پارٹی کارکنوں اور آزاد ووٹرز کی بڑی تعداد میں شرکت نے اہم کردار ادا کیا۔ ڈیموکریٹس نے ہر انتخابی حلقے میں امیدوار کھڑے کرنے کی حکمت عملی بھی اپنائی، حتیٰ کہ ان حلقوں میں بھی جہاں چند ماہ قبل کامیابی کا امکان کم سمجھا جا رہا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ریپبلکن امیدواروں کو صدر ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت اور مہنگائی سے پریشان ووٹرز کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔
انتخابی نتائج اور ایگزٹ پولز سے ظاہر ہوا کہ امریکی ووٹرز ملک کی معاشی صورتحال اور حکومت سے ناخوش ہیں۔ تقریباً 90 فیصد ووٹرز نے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات کو ووٹ دینے میں اہم یا فیصلہ کن عنصر قرار دیا۔
دو تہائی ووٹرز نے مہنگائی کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو ٹھہرایا
ایس ایس آر ایس کے ایگزٹ پولز کے مطابق تقریباً دو تہائی ووٹرز نے مہنگائی کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو ٹھہرایا، جبکہ تین چوتھائی ووٹرز نے ملک کی موجودہ سمت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ حکومتی بدعنوانی بھی ووٹرز کی بڑی تشویش میں شامل رہی۔
رائٹرز کے مطابق غیر ملکی اشیاء پر عائد محصولات اور ایران کے ساتھ جنگ نے بہت سے امریکیوں کے لیے معاشی مشکلات میں اضافہ کیا۔ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے بلند اخراجات برداشت کرنے کا دفاع کیا تاہم ان کی مقبولیت میں بھی کمی آتی رہی۔
وسط مدتی انتخابات کے نتائج ریپبلکن پارٹی کی شکست کے ساتھ صدر ٹرمپ کے لیے بھی دھچکا ثابت ہوئے۔ ان کے حمایت یافتہ کئی امیدوار اپنے اپنے حلقوں میں کامیابی حاصل نہ کر سکے۔
جنوبی کیرولائنا میں ڈارلین گراہم، شمالی کیرولائنا میں مائیکل واٹلی اور ٹیکساس میں کین پیکسٹن کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے بعض امیدواروں کو مقامی ریپبلکن رہنماؤں کے تحفظات کے باوجود ٹرمپ کی حمایت حاصل تھی۔
انتخابی نتائج کے بعد ٹرمپ کی انتخابی حکمت عملی اور امیدواروں کے انتخاب کے طریقہ کار پر سوالات اٹھنے کا امکان ہے، خصوصاً اس حوالے سے کہ وہ وسیع تر انتخابی حمایت رکھنے والے امیدواروں کے بجائے ذاتی وفاداری کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔
ٹرمپ کی کامیابی میں کردار ادا کرنے والے ووٹرز اتحاد میں دراڑیں
ایگزٹ پولز کے مطابق 2024 میں ٹرمپ کی کامیابی میں کردار ادا کرنے والے ووٹرز کے اتحاد میں بھی دراڑیں پڑی ہیں۔ سیاہ فام مردوں، لاطینی امریکیوں اور نوجوان ووٹرز میں ریپبلکنز کی حمایت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
انتخابی مہم کے آخری ہفتوں میں ٹرمپ اور ریپبلکن رہنماؤں نے ڈیموکریٹس کو انتہا پسند اور کمیونسٹ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ان کی کامیابی امریکا کو تباہی کی طرف لے جائے گی۔
ٹرمپ نے متعدد مواقع پر کہا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس کامیاب ہوئے تو امریکا ایک کمیونسٹ ملک بن جائے گا، تاہم انتخابی نتائج سے ظاہر ہوا کہ ووٹرز کی توجہ زیادہ تر اشیائے خوردونوش، پیٹرول اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں پر مرکوز رہی۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ ووٹرز کو یہ باور کرانے میں کامیاب نہ ہو سکے کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی امریکا کے لیے کسی بڑے خطرے کا باعث بنے گی۔
انتخابات میں لاطینی امریکی ووٹرز کی حمایت میں کمی بھی ریپبلکنز کی لیے اہم دھچکا قرار دی جا رہی ہے۔ 2024 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کو تقریباً نصف لاطینی ووٹرز کی حمایت حاصل ہوئی تھی، جو 2020 میں تقریباً ایک تہائی تھی۔
تازہ ایگزٹ پولز کے مطابق منگل کے انتخابات میں لاطینی ووٹرز میں ریپبلکنز کی حمایت کم ہو کر تقریباً ایک تہائی رہ گئی، جبکہ 2024 میں یہ شرح 46 فیصد تھی۔ مہنگائی اور معاشی مشکلات کو اس تبدیلی کی اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔
کانگریس پر کنٹرول کے بعد ڈیموکریٹس کیلیے بھی چیلنج
کانگریس کا کنٹرول حاصل کرنا ڈیموکریٹس کیلیے کامیابی کے ساتھ ایک سیاسی چیلنج بھی ہو گا۔ ووٹرز اب ان سے توقع کریں گے کہ وہ مہنگائی اور دیگر معاشی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں، نہ کہ صرف صدر ٹرمپ کی مخالفت تک محدود رہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ کے پاس قانون سازی کو ویٹو کرنے کا اختیار برقرار رہے گا، جس سے ڈیموکریٹس کے لیے اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد محدود ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ یہ مؤقف بھی اختیار کر سکتے ہیں کہ اب ملکی معیشت کی صورتحال کی ذمہ داری ڈیموکریٹس پر بھی عائد ہوتی ہے۔



