یورپ کی مختلف فلائٹس میں بم کی دھمکیوں سے پروازوں کا نظام درہم برہم ہو گیا جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
یورپ میں گزشتہ چند روز کے دوران مختلف مسافر پروازوں کو بم کی دھمکیاں موصول ہونے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث متعدد طیاروں کا رخ موڑنا پڑا، ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی اور ہوائی اڈوں پر سکیورٹی کے سخت اقدامات کیے گئے۔ تاہم اب تک کسی بھی طیارے سے دھماکا خیز مواد برآمد نہیں ہوا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ریان ایئر کی دو پروازوں کو آج اٹلی کے روم ایئرپورٹ پر ممکنہ بم دھمکیوں کے بعد سکیورٹی جانچ پڑتال سے گزارا گیا۔ ایک پرواز لزبن اور دوسری ڈبلن سے پہنچی تھی۔ ڈبلن سے آنے والی پرواز کو اطالوی فضائیہ نے لینڈنگ تک حفاظتی حصار فراہم کیا۔
ایئرپورٹ آپریٹر کے مطابق دونوں طیاروں، سامان، مسافروں اور عملے کی تلاشی لی گئی، تاہم کوئی دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔ حکام نے واضح کیا کہ ایئرپورٹ کو براہ راست کوئی خطرہ نہیں تھا اور دیگر پروازیں بھی متاثر نہیں ہوئیں۔
اسپین کے شہر مرسیا کے ایئرپورٹ پر مانچسٹر سے آنے والی ریان ایئر کی پرواز کو بم کی دھمکی موصول ہونے کے بعد سکیورٹی پروٹوکول نافذ کیا گیا۔ طیارے میں سوار 114 مسافروں اور عملے کے 7 ارکان کو اتار کر ان کی جانچ پڑتال کی گئی، جبکہ سکیورٹی اہلکاروں نے طیارے کی بھی تلاشی لی۔
بلغاریہ کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق ڈبلن سے صوفیہ آنے والی ریان ایئر کی پرواز کو بھی 3 نومبر کو بم کی دھمکی دی گئی۔ طیارہ 185 مسافروں کے ساتھ بحفاظت اترا، تاہم تلاشی کے دوران کوئی دھماکا خیز مواد نہیں ملا۔
وز ایئر اور دیگر فضائی کمپنیوں کی پروازیں بھی متاثر
بلغاریہ کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق میلان کے برگامو ایئرپورٹ سے صوفیہ جانے والی وز ایئر کی پرواز کو بھی 3 نومبر کو بم کی دھمکی موصول ہوئی۔ طیارہ 176 مسافروں کے ساتھ بحفاظت لینڈ کرگیا، جبکہ معائنے کے دوران کوئی مشتبہ مواد برآمد نہیں ہوا۔
اس سے ایک روز قبل لندن سے صوفیہ جانے والی وز ایئر کی ایک اور پرواز کو بم کی دھمکی کے بعد ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ کی جانب موڑ دیا گیا تھا۔ ہنگری کی وزارت دفاع کے مطابق طیارے کی حفاظت کے لیے جنگی طیارہ بھی روانہ کیا گیا۔
3 نومبر کو لندن سے آنے والی پولینڈ کی فضائی کمپنی لوٹ پولش ایئرلائنز کی پرواز نے بم کی دھمکی کے بعد وارسا موڈلن ایئرپورٹ پر غیر طے شدہ لینڈنگ کی۔ واقعے کے بعد ایئرپورٹ پر پروازیں عارضی طور پر معطل کردی گئیں، تاہم سکیورٹی جانچ پڑتال کے بعد دوبارہ بحال ہوگئیں۔
اسی روز کوپن ہیگن سے وارسا جانے والی ایس اے ایس ایئرلائنز کی پرواز کو بھی بم کی دھمکی موصول ہوئی۔ طیارہ وارسا کے چوپن ایئرپورٹ پر بحفاظت اترا اور مسافروں کو اتارنے کے بعد اس کی تلاشی لی گئی۔
پولش حکام کے مطابق دھمکی کی تصدیق نہیں ہوسکی اور ایئرپورٹ پر معمول کی سرگرمیاں جاری رہیں۔
اس سے قبل 18 اکتوبر کو تل ابیب سے ویانا جانے والی آسٹریا ایئرلائنز کی پرواز کو رومانیہ کی فضائی حدود میں بم کی دھمکی موصول ہونے کے بعد بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ منتقل کردیا گیا تھا۔
بلغاریہ کی فضائیہ کے میگ 29 جنگی طیارے نے ایئربس اے 320 کو حفاظتی حصار فراہم کیا۔ طیارہ دھمکی موصول ہونے کے تقریباً 30 منٹ بعد صوفیہ میں اترا، جہاں مسافروں کو بحفاظت باہر نکالا گیا۔
ایئرلائن کے مطابق طیارے میں 51 مسافر اور عملے کے 6 ارکان سوار تھے۔ سکیورٹی تلاشی میں کوئی خطرہ سامنے نہیں آیا، جس کے بعد پرواز تمام مسافروں کے ساتھ ویانا روانہ ہوگئی۔



