حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوامی ریلیف پیکج سے متعلق بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہوگئی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی زیرقیادت جماعت اسلامی کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات میں عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں عام شہریوں، بالخصوص کم آمدنی والے گھرانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، سیکرٹری خزانہ اور پیٹرولیم ڈویژن کے اسپیشل سیکرٹری بھی ملاقات میں شریک تھے۔
دفتر خارجہ کے مطابق فریقین نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے قابل عمل اقدامات پر گفتگو کی اور توانائی کی قیمتوں اور عوامی سہولت سے متعلق معاملات پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 held a meeting with a delegation of Jamaat-e-Islami (JI) led by Mr. Liaquat Baloch today to discuss petroleum prices in the country.
The two sides held candid discussions on practical measures to provide relief to the common man, with a specific focus on easing the economic burden on low-income citizens. Both sides agreed to continue their consultations over the coming days to formulate a way forward on energy pricing and public relief.
The DPM/FM reiterated the Government’s commitment to prioritising public welfare and facilitating ordinary citizens amidst global economic challenges. He emphasised that sustained cross-party dialogue remains key to addressing national economic challenges effectively.
The meeting was attended by the Minister for Planning, Development and Special Initiatives, Adviser to PM on Inter-Provincial Coordination, SAPM Tariq Bajwa, Secretary Finance and Special Secretary Petroleum.
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 3, 2026
اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت عالمی معاشی مشکلات کے باوجود عوامی فلاح اور عام شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔
پیٹرولیم لیوی کے خاتمے پر مذاکرات آخری مرحلے میں
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے پیش کی گئی 6 تجاویز میں سے 4 اہم نکات پر حکومت سے بات چیت ہوئی ہے۔ جن میں پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ، صارفین کے لیے ریلیف پیکج، پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی اور زرعی شعبے سمیت 800 سی سی سے زائد گاڑیوں کے مالکان کو ریلیف فراہم کرنا شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں فریق پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی اور دیگر ریلیف اقدامات کے حوالے سے ورکنگ پیپرز تیار کریں گے۔ حکومت اپنا ورکنگ پیپر مکمل کرے گی، جبکہ دونوں جانب کے نمائندوں کا اجلاس بدھ کو دوبارہ ہو گا، جس میں پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔
اسلام آباد: قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے بعد پریس کانفرنس
جماعت اسلامی عوامی ریلیف کے لیے احتجاج اور مذاکرات دونوں کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں پٹرولیم لیوی کے بتدریج خاتمے، ریلیف پیکیج میں توسیع، ایک ہزار سی سی تک گاڑیوں، زرعی مشینری اور پبلک ٹرانسپورٹ کو ریلیف دینے سمیت چار بنیادی امور پر بات ہوئی، جبکہ حکومت نے زرعی شعبے اور ایک ہزار سی سی تک گاڑیوں کو ریلیف دینے پر اتفاق کیا ہے۔
لیاقت بلوچ کے مطابق حکومت پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے مالیاتی اعداد و شمار اور تجاویز کا جائزہ لے کر ڈرافٹ تیار کرے گی، جس پر کل متعلقہ وزارتوں کے حکام اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹی کے نمائندے بیٹھیں گے۔
انہوں نے آئل ریفائنریز کے منافع، حکومتی غیر ترقیاتی اخراجات، مراعات، آئی پی پیز اور پالیسی ریٹ میں کمی کے معاملات بھی اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ لیوی ختم کرنے کے بجائے عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا عمل حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور معاہدے کے مسودے کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
اگر مجوزہ ریلیف پیکیج عوام کے لیے مؤثر ثابت نہ ہوا تو جماعت اسلامی نومبر کے وسط میں ملتان سے اسلام آباد تک احتجاجی مارچ کرے گی، تاہم احتجاج پرامن اور عوامی حقوق کے لیے ہوگا۔
#جماعت_اسلامی_سپرلانگ_مارچ
#لیوی_بھتہ_نامنظور— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) November 3, 2026
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کے بعد پارٹی کے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ حافظ نعیم الرحمان اس وقت ترکیہ میں ہیں اور انہیں مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کردیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا بنیادی مقصد عوام کو خاطر خواہ ریلیف دلانا ہے۔ جبکہ پیٹرولیم لیوی اور آئل ریفائنریز کے منافع کے معاملے پر جماعت اسلامی کے تحفظات برقرار ہیں۔
’مذاکرات ناکام ہوئے تو احتجاجی تحریک آگے بڑھے گی‘
جماعت اسلامی کے نائب امیر نے واضح کیا کہ پارٹی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گی، تاہم اگر مجوزہ ریلیف پیکج سے عوام کو خاطر خواہ فائدہ نہ پہنچا تو احتجاجی تحریک بھی آگے بڑھائی جائے گی۔
جماعت اسلامی نے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں نومبر کے وسط میں ملتان سے اسلام آباد کی جانب دوبارہ مارچ شروع کرنے کا عندیہ دے رکھا ہے۔
وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مذاکرات میں پیش رفت
اس سے قبل 27 اکتوبر کو وزیراعظم شہباز شریف اور حافظ نعیم الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔ جس میں دونوں فریقین نے ایک مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا تھا، جسے سرکاری فیول ریلیف اسکیم میں توسیع اور پیٹرولیم لیوی میں مرحلہ وار کمی سے متعلق تجاویز تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
حکومت کی جانب سے اس کمیٹی میں اسحاق ڈار، احسن اقبال اور رانا ثنااللہ جبکہ جماعت اسلامی کی جانب سے لیاقت بلوچ سمیت دیگر رہنما شامل ہیں۔
واضح رہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے باعث حکومت نے 17 ستمبر سے ملک بھر میں ایندھن پر ریلیف اسکیم شروع کر رکھی ہے، جس کے تحت موٹرسائیکلوں، رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ حکومت کے مطابق اس اسکیم کا مقصد پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں سے کم آمدنی والے طبقے کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔
جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم لیوی عوام پر اضافی مالی بوجھ ہے، اس لیے اسے ختم کیا جائے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد جماعت اسلامی نے حکومتی درخواست پر اسلام آباد مارچ ملتان پہنچنے کے بعد مؤخر کر دیا گیا تھا، تاہم پارٹی کا کہنا ہے کہ مطالبات پر خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔



