یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روس کو یوکرین کے خلاف جاری جنگ میں اس وقت محاذِ جنگ پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے تاہم فرنٹ لائن کی صورتحال پیچیدہ ضرور ہے لیکن یوکرینی فوج کے کنٹرول میں ہے۔
واضح رہے کہ روسی صدرولادیمیرپیوٹن نے یکم ستمبر2026 کو دعویٰ کیا تھا کہ روس یوکرین جنگ میں کامیابی حاصل کررہا ہے اورروسی فوج محاذِ جنگ پر پیش قدمی کررہی ہے بعد ازاں 16 اکتوبر کو روسی فوج کے سربراہ جنرل ویلری گیراسیموف نے پیوٹن کو بریفنگ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ روسی فوج نے یکم ستمبرسے اب تک یوکرین کے 92 علاقے اور1800 مربع کلومیٹرسے زائد رقبہ اپنے قبضے میں لے لیا ہے تاہم یوکرین نے ان دعوؤں کومسترد کرتے ہوئے انہیں بڑی فتوحات کا تاثردینے کی کوشش قراردیا تھا۔
خبررساں ادارے رائٹرزکے مطابق یوکرینی صدروولودیمیرزیلنسکی نے یہ بیان جرمنی کے دارالحکومت برلن میں جرمن چانسلرفریڈرک مرزکے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دیا۔
زیلنسکی کا کہنا تھا کہ جنگ کے محاذوں پرصورتحال پیچیدہ ہے تاہم اسے قابو میں رکھا گیا ہے اورروس کو فی الحال کوئی برتری حاصل نہیں، انہوں نے ایک مرتبہ پھراپنے ملک کیلئے مزید فضائی دفاعی نظام اورفوجی سازوسامان کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے زوردیا کہ یوکرین کے ایسے شہروں کو روسی حملوں سے محفوظ بنانے کے لئے فضائی دفاعی نظام کی مزید فراہمی ضروری ہے جو جنگ کے اگلے محاذوں سے دور واقع ہیں۔
یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ شہری آبادی اوراہم تنصیبات کے تحفظ کے لیے فضائی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ انتہائی اہم ہے۔
یاد رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان فروری 2022 سے جنگ جاری ہے، جس کے دوران دونوں ممالک کی افواج کو بھاری جانی ومالی نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ یوکرین مسلسل مغربی اتحادیوں سے فضائی دفاعی نظام اور فوجی معاونت میں اضافے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔


