روس اور یوکرین کے درمیان جنوبی یوکرین کے روس کے زیر قبضہ شہر اولیشکی میں جنگ بندی نافذ ہوگئی جس کی امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے بھی تصدیق کردی۔
امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی 27 اکتوبر 2026 کو ماسکو کے وقت کے مطابق صبح 4 بجے نافذ ہوئی۔
THE CEASEFIRE HAS COMMENCED
The ceasefire between Ukraine and Russia took effect at 4:00am Moscow time on October 27, 2026.Timing was accelerated two days ahead of schedule to protect the safety of civilians and to facilitate the delivery of critical humanitarian aid. The ceasefire’s geographic area has expanded beyond Oleshky, within the Kherson Region, to provide safe passage for the humanitarian convoys.
General Valery Gerasimov, Joint Chief of the General Staff of the Russian Armed Forces has confirmed.
— MELANIA TRUMP (@MELANIATRUMP) October 27, 2026
اولیشکی دریائے دنیپرو کے مشرقی کنارے پر جنوبی یوکرین کے علاقے خیرسون میں واقع ہے جبکہ دریائے دنیپرو کے دوسری جانب خیرسون شہر یوکرینی فورسز کے کنٹرول میں ہے۔ روسی فوج نے فروری 2022 میں یوکرین پر حملے کے ابتدائی دنوں میں اولیشکی پر قبضہ کرلیا تھا۔
روس اور یوکرین نے گزشتہ روز علاقائی جنگ بندی شروع کرنے کی تصدیق کی جس کا مقصد روس کے زیر قبضہ شہر اولیشکی میں انسانی امدادی سرگرمیوں کا آغاز کرنا ہے۔
جنوبی یوکرین کے علاقے خیرسون میں واقع اولیشکی میں خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ جنگ بندی سے امدادی سامان پہنچانے اور محاذ کے قریب واقع شہر سے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
یوکرین کے پارلیمانی کمشنر برائے انسانی حقوق دمترو لوبینٹس نے فیس بک پر بیان میں کہا کہ یوکرینی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ کی حیثیت سے وہ تصدیق کرتے ہیں کہ یوکرین اس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پر عمل کررہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ معاہدہ امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور روس کی انسانی حقوق کی کمشنر یانا لانتراتوا کے ساتھ رابطوں کے ذریعے طے پایا۔
دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے ٹیلی گرام پر کہا کہ اولیشکی میں امدادی سرگرمیوں کی تیاری کے لیے ماسکو کے وقت کے مطابق صبح 4 بجے سے خیرسون شہر کی سمت گولہ باری روک دی گئی ہے۔
میلانیا ٹرمپ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ شہریوں کی حفاظت اور اہم انسانی امداد کی فراہمی ممکن بنانے کے لیے جنگ بندی کا آغاز طے شدہ وقت سے2 دن پہلے کردیا گیا جبکہ خیرسون کے علاقے میں اس کا جغرافیائی دائرہ اولیشکی سے آگے بھی بڑھا دیا گیا تاکہ امدادی قافلوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جاسکے۔
میلانیا ٹرمپ کے مطابق روسی مسلح افواج کے جوائنٹ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ویلری گیراسیموف نے بھی جنگ بندی کی تصدیق کردی ہے۔
اس سلسلے میں امریکی صدر ٹرمپ نے بھی صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں کہا ہے کہ ”ہمیں روس اور یوکرین جنگ پر اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے ۔ اس سلسلے میں صدر پیوٹن اور صدر زیلینسکی کے ساتھ بہت جلد ایک اہم میٹنگ ہو گی۔“
.@POTUS: “We’re making a lot of progress with Russia-Ukraine. There’ll be a meeting set up very soon.” https://t.co/N0vU2zoIsJ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) October 28, 2026
یوکرین کے دیگر علاقوں میں حملے جاری
جنگ بندی کے باوجود یوکرین کے دیگر علاقوں میں حملے جاری رہے۔ حکام کے مطابق منگل کو کیف میں سدرن برج اور میٹرو کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ٹریفک معطل کرنا پڑی، جبکہ رائٹرز کے ایک نمائندے نے دھماکوں کی آوازیں بھی سنیں۔
رپورٹ کے مطابق پیر کی شام سے کیف پر روسی میزائل حملوں میں کم از کم ایک شخص ہلاک اور 15 زخمی ہوئے جن میں ایک ہاسٹل میں مقیم طلبہ بھی شامل ہیں۔ خارکیف اور پاولوہراد شہروں میں بھی حملوں کے نتیجے میں ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
روسی وزارت دفاع نے کہا کہ اس نے کیف میں ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے، خارکیف کے علاقے میں ایک لاجسٹکس مرکز اور دیگر مقامات پر ان تنصیبات کو نشانہ بنایا جنہیں اس کے مطابق فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔
یوکرین کی سرحد کے قریب روسی شہر بریانسک میں ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 6 زخمی ہوگئے۔
یوکرین کے جنوب مشرقی علاقے زاپوریژیا کے روس کے زیر کنٹرول حصے میں بھی ایک بس پر ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور 30 زخمی ہوئے۔
رائٹرز کے مطابق ان اطلاعات کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ روس اور یوکرین دونوں شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہیں۔


