مڈٹرم الیکشن کے لیے آج ہونے والی پولنگ سے قبل امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے غیر ملکی شہریوں کو ووٹ ڈالنے سے روکنے کے منصوبے پر عملدرآمد سے عارضی طور پر روک دیا ہے جس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
ناقدین کے مطابق اس منصوبے سے ووٹ ڈالنے کے اہل شہریوں کے حق رائے دہی سے محروم ہونے اور انتخابات کے انعقاد پر ریاستوں کے اختیارات کی خلاف ورزی ہونے کا خدشہ تھا۔
واشنگٹن ڈی سی میں تعینات امریکی ڈسٹرکٹ جج تانیا چٹکن نے محکمہ انصاف اور محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کو حکم دیا ہے کہ وہ ریاستوں کو ایسے رجسٹرڈ ووٹرز کی فہرستیں نہ بھیجیں جن کے بارے میں انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ وہ امریکی شہری نہیں ہیں۔
عدالت نے انتظامیہ کو ریاستی انتخابی حکام سے یہ مطالبہ کرنے سے بھی روک دیا ہے کہ وہ ان ووٹرز کے بیلٹ پیپرز الگ رکھیں یا شہریت ثابت ہونے تک ان کی گنتی نہ کریں۔
اس عدالتی فیصلے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انتخابات کے انتظام پر وفاقی حکومت کا کنٹرول بڑھانے کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ کوششیں آج امریکا میں ہونے والے مڈ ٹرم الیکشن سے قبل کی جا رہی ہیں، جن میں ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے۔
غیر ملکی شہریوں کا ووٹ ڈالنا غیر قانونی ہے اور دستیاب تمام شواہد کے مطابق ایسے واقعات انتہائی کم ہوتے ہیں۔ تاہم ٹرمپ مسلسل یہ بے بنیاد دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ 2020 کے صدارتی انتخابات میں ان کی شکست دھاندلی کے باعث ہوئی تھی۔ ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ امریکی ریاستیں غیر ملکی شہریوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دے رہی ہیں۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران ٹرمپ انتظامیہ نے مبینہ طور پر غیر ملکی شہریوں کے ووٹ ڈالنے کے معاملے پر انتخابی حکام کے خلاف دباؤ کی مہم تیز کر دی تھی۔ اس سلسلے میں کیلیفورنیا اور ریاست واشنگٹن کے حکام کو خطوط بھیجے گئے، جن میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ انتظامیہ کی فراہم کردہ فہرستوں میں شامل ایسے افراد کے بیلٹ پیپرز شمار نہ کیے جائیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ امریکی شہری نہیں ہیں۔
اس اقدام کے جواب میں حق رائے دہی اور شہریوں کی نجی معلومات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں نے جج چٹکن سے درخواست کی کہ وہ ٹرمپ انتظامیہ کو ایسی فہرستیں ریاستوں کو بھیجنے اور اس نوعیت کے مطالبات کرنے سے عارضی طور پر روکیں۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ انتظامیہ 1974 کے پرائیویسی ایکٹ کی خلاف ورزی کر رہی ہے، جو وفاقی حکومت کو شہریوں کی حساس نجی معلومات افشا کرنے سے روکتا ہے۔
محکمہ انصاف نے ہفتے کو عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویز میں کہا کہ کیلیفورنیا اور ریاست واشنگٹن کو بھیجے گئے خطوط غیر ملکی شہریوں کے ووٹ ڈالنے پر پابندی کے وفاقی قانون پر عمل درآمد کی کوشش کا حصہ تھے اور انہیں ایسی الگ پالیسی قرار نہیں دیا جا سکتا جس کا وفاقی عدالت جائزہ لے سکے۔
ایک روز قبل لاس اینجلس کی ایک وفاقی عدالت نے محکمہ انصاف کو کیلیفورنیا کے 20 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز کے ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے بیلٹ پیپرز عارضی طور پر الگ رکھنے سے روک دیا تھا۔ محکمہ انصاف کا دعویٰ تھا کہ ان ووٹرز کی امریکی شہریت مشکوک ہے۔
سابق ڈیموکریٹ صدر براک اوباما کی جانب سے مقرر کی گئی جج تانیا چٹکن نے کہا کہ انتظامیہ کے فراہم کردہ اعداد و شمار قابل اعتماد نہیں بھی ہو سکتے، جس سے قانونی طور پر رجسٹرڈ ووٹرز کو حق رائے دہی سے محروم کیے جانے کا خطرہ ہے۔
دوسری جانب اپیل کورٹ نے جمعہ کو اپیل کے فیصلے تک ہنگامی حکم جاری کرنے کی محکمہ انصاف کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔
اسی روز سان فرانسسکو کی ایک وفاقی عدالت نے محکمہ انصاف کو حکم دیا تھا کہ وہ ان ریاستی اور مقامی انتخابی حکام کو مقدمات چلانے کی دھمکیاں دینا بند کرے جو غیر ملکی شہریوں کے مبینہ ووٹ ڈالنے کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ کے مطالبات تسلیم نہیں کرتے۔



