یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف عرب اتحاد نے فوجی کارروائی کرتے ہوئے ان وسائل کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جنہیں حوثی شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔
حوثی باغیوں کی جانب سے گزشتہ ماہ سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملوں میں تیزی آئی ہے۔ دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئر پورٹ اور شیبہ آئل فیلڈ کے علاوہ ریاض ائیر پورٹ پر بھی کئی حملے کیے جا چکے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے عرب نیوز کے مطابق سعودی اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی کا مقصد یمن، سعودی عرب اور بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں بحری تجارتی راستوں کو درپیش خطرات کا مقابلہ کرنا تھا۔
ترکی المالکی نے الزام عائد کیا کہ حوثی باغی اپنی فوجی صلاحیتوں میں اضافے، خصوصاً بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی تیاری و استعمال کے لیے اہم وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، جبکہ یمن اور سعودی عرب میں شہریوں اور شہری تنصیبات پر مسلسل حملے بھی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اتحادی افواج کی مشترکہ کمان نے شہریوں کی جانوں اور بنیادی ڈھانچے کو لاحق خطرات کے پیش نظر فوجی آپریشن شروع کیا۔
ترجمان کے مطابق حوثیوں کے مزید حملوں کو روکنے اور انہیں جنگی مقاصد کے لیے اہم وسائل استعمال کرنے سے باز رکھنے کے لیے فوجی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
https://t.co/BU160JNVu3
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) November 1, 2026
ترکی المالکی نے خبردار کیا کہ اگر حوثیوں نے شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملے بند نہ کیے تو انہیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
عرب اتحاد کی جانب سے حدیدہ اور زمار میں حوثی باغیوں کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیے جانے کی ویڈیو جاری کر دی۔
التحالف:
مشاهد لتدمير مصادر حيوية بمحافظتي (الحديدة، ذمار) تستخدمها الميليشيا الحوثية الإرهابية لدعم مجهودها الحربي. https://t.co/utzOj8aWtA
— المتحدث الرسمي باسم قوات التحالف (@CJFCSpox) November 1, 2026
واضح رہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری حوثی باغیوں کے حملوں میں سعودی عرب کے ایئرپورٹس، انرجی انفرا اسٹرکچر اور مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
10 اکتوبر کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے میزائل حملے میں 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
دوسری جانب یمنی فوج کا حوثیوں کے خلاف آپریشن فجر الیمن جاری ہے۔ گزشتہ روز حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں یمنی فوج نے 427 جنگجو ہلاک کیے جانے کا دعویٰ کیا ہے۔ جبکہ 142 فوج گاڑیاں، جنگی سازوسامان اور نقل و حمل کے ذرائع بھی تباہ کیے گئے ہیں۔



