امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیواروں پر سونا لگا کر وائٹ ہاؤس کو سجایا مگر مڈ ٹرم الیکشن کی مہم کے دوران ان کا یہی اقدام ان پر طنز کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا جہاں سابق صدور بل کلنٹن اور باراک اوباما نے ان کی تزئین و آرائش کو چمکیلے بھڑکیلے ’باتھ روم‘ اور ’ریسٹورنٹ‘ سے تشبیہ دے دی۔
باراک اوباما نے ایک بار پھر ڈونلڈ ٹرمپ اور کنزرویٹو میڈیا کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ’غیر سنجیدہ لوگوں‘ پر مشتمل ہے جو مہنگائی جیسے حقیقی مسائل حل کرنے کے بجائے فضول اور سطحی معاملات پر حکومتی طاقت ضائع کر رہے ہیں۔
جارجیا کے علاقے مورو میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اوباما نے ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش پر کیے گئے اپنے حالیہ طنز کا دفاع کیا۔ یاد رہے کہ اوباما نے طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ “ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کو ایسا بنا دیا ہے جیسے صدام حسین نے ’چیزکیک فیکٹری‘ کا ریسٹورنٹ کھول لیا ہو۔”
’چیزکیک فیکٹری‘ ریسٹورنٹس کی ایک مشہور چین ہے ،جو اپنی حد سے زیادہ آرائش کے لیے جانی جاتی ہے۔
OBAMA: I inherited this major financial crisis. I never called my Treasury Secretary and said, “You’ve got to go to Arby’s. Order roast beef. No cheese though that may look elitist.”
They don’t have solutions to actual problems, so they’d rather have the media and you talking about the Cheesecake Factory.
— Acyn (@Acyn) October 29, 2026
جلسے سے خطاب میں اوباما کا کہنا تھا کہ “یہ پاگل پن ہے، لیکن سب سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ انہوں نے میرے ایک مذاق پر پورا حکومتی نظام متحرک کر دیا۔ مہنگائی کم کرنے کے لیے نہیں بلکہ میرے ایک جملے پر ردِعمل دینے کے لیے! وائٹ ہاؤس نے ملک کے معاشی سربراہ اور سیکرٹری خزانہ کو فون کر کے چیز کیک فیکٹری ریسٹورنٹ کے سامنے پریس کانفرنس کرنے کی ہدایت کی۔”
اوباما نے طنزاً کہا کہ ”نصف ارب ڈالر کے مالک وزیرِ خزانہ وہاں کھڑے ہو کر بتاتے رہے کہ انہوں نے ایگ رولز کے بجائے فرانسیسی چیز برگر آرڈر کیا تھا۔“
اوباما نے اپنے دورِ صدارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ “مجھے جب تاریخ کا شدید ترین معاشی بحران ملا تو میں نے اپنے وزیرِ خزانہ کو کبھی یہ نہیں کہا کہ فلاں مشہور ریسٹورنٹ پر جا کر روسٹ بیف کھاؤ تاکہ لوگ ووٹ دیں۔
View this post on Instagram
انہوں نے عوام اور صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “جب میں کہتا ہوں کہ یہ سنجیدہ لوگ نہیں ہیں تو میرا یہی مطلب ہوتا ہے۔ ان کے پاس معاشی مشکلات، شرحِ سود اور مہنگائی کا کوئی حل نہیں ہے، اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ میڈیا اور عوام چیز کیک فیکٹری پر بات کرتے رہیں۔ یہ لوگ حملوں، جھوٹ اور مصنوعی غصے کے ذریعے توجہ بھٹکانے کا کھیل کھیل رہے ہیں تاکہ آپ کو بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سخت ہوتی زندگی کا احساس نہ ہو۔”
واضح رہے کہ اوباما کے ’چیز کیک فیکٹری‘ والے طنز پر ڈونلڈ ٹرمپ نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے انہیں ”ایک نااہل اور نالائق صدر“ قرار دیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ اوباما کو وائٹ ہاؤس میں پھیلی گندگی اور ٹوٹی ہوئی دیواریں نظر نہیں آتی تھیں۔
اوباما کے علاوہ سابق صدر بل کلنٹن نے بھی وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن کی تزئینِ نو پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”ٹرمپ نے روز گارڈن کو لیبراچی کے باتھ روم جیسا بنا دیا ہے“۔
🚨BILLL CLINTON HUMILIATES TRUMP
CLINTON: “I think Congress made a mistake not protesting turning the Rose Garden into what looks like the entrance to Liberace’s bathroom”
#BlueWaveIn10Days https://t.co/UbNXW8heSn
— CALL TO ACTIVISM (@CalltoActivism) October 24, 2026
لیبراچی اپنے دور کے ایک مشہور موسیقار اور گلوکار تھے جو اپنے انتہائی چمکیلے، زرق برق اور شوخ طرزِ زندگی و سجاوٹ کے لیے جانے جاتے تھے۔
اسی طرح ہیلری کلنٹن نے اگست میں قرار دیا تھا کہ اوول آفس کی دیواروں پر جا بجا سونا تھوپنا ٹرمپ کی نرگسیت اور خود کو اہم دکھانے کی کوشش کا نتیجہ ہے۔
Clinton Compares Trump to Saddam
Former U.S. Secretary of State Hillary Clinton: I’ve been to meetings in some of Saddam’s palaces. They remind me of what we’re seeing now in the White House. It’s madness. It’s sad. Everything has become so luxurious and ostentatious. It’s a reflection of his narcissistic personality.
This person thinks: “Where can I add more gold?” Instead of thinking: “How can I get out of Iran without looking like a loser?”
— Sprinter Press (@Sprinter_Press) August 8, 2026
انہوں نے ٹرمپ کے سستے اور بھڑکیلے انداز کو سابق عراقی صدر صدام حسین کے بغداد والے محلات کی سجاوٹ جیسا قرار دیا۔
