کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ نے پہلی اننگز میں 329 رنز بنائے جس کے جواب میں آسٹریلیا نے چار وکٹوں کے نقصان پر 191 رنز بنا لیے ہیں۔
تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن آسٹریلیا ٹریوس ہیڈ 41 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، مارنس بغیر کوئی رنز بنائے آؤٹ ہوئے، میٹ رینشا اور کیمرون گرین نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی، میٹ رینشا 74 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
کیمرون گرین 65 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے، چائے کے وقفے تک آسٹریلیا نے چار وکٹوں کے نقصان پر 191 رنز بنائے تھے۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان تیسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے روز اتار چڑھاؤ سے بھرپور مقابلہ دیکھنے میں آیا، جہاں جنوبی افریقی بلے بازوں نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بولرز کو مشکلات سے دوچار کیا، تاہم مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ نے میچ کا نقشہ بدل دیا۔
جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم 329 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، جبکہ اسٹارک نے 72 رنز دے کر 6 وکٹیں حاصل کیں۔
آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا، تاہم جنوبی افریقی اوپنرز نے اس فیصلے کو غلط ثابت کرتے ہوئے پراعتماد انداز میں اننگز کا آغاز کیا، اوپنرز ایڈن مارکرم اور مارکس ایکرمین نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے آسٹریلوی بولنگ اٹیک کو دباؤ میں ڈال دیا۔
مچل اسٹارک اور جوش ہیزل وڈ ابتدائی اوورز میں خاطر خواہ اثر نہ دکھا سکے۔ جنوبی افریقی بلے بازوں نے شارٹ پچ اور وائیڈ گیندوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا، جبکہ مارکرم نے فرنٹ فٹ ڈرائیوز اور بیک فٹ شاٹس کے ذریعے رنز کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایک موقع پر کمنز کی گیند پر چھکا لگا کر بھی انہوں نے اپنے جارحانہ عزائم واضح کیے۔
ایکرمین نے بھی شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور ناتھن لائن کو چھکے مارے، جبکہ اسٹارک کے ایک اوور میں 18 رنز بٹورے۔ جنوبی افریقہ کی پہلی وکٹ 158 رنز پر گری، جس کے بعد آسٹریلیا نے میچ میں واپسی کی کوششیں تیز کر دیں۔
ناتھن لائن نے ایکرمین کو 95 رنز پر اسٹمپ آؤٹ کرا کے اہم کامیابی حاصل کی، جبکہ مارکرم بھی جوش ہیزل وڈ کی گیند پر آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد لائن نے ٹیمبا باووما کو بولڈ کیا اور نوجوان بولر کوپر کونولی نے میتھیو بریٹزکے کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کرکے اپنی پہلی ٹیسٹ وکٹ حاصل کی۔
ڈیوڈ بیڈنگھم نے نصف سنچری اسکور کی تاہم وہ بھی ہیزل وڈ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔ وِیان ملڈر بغیر کوئی رن بنائے اسٹارک کا شکار بنے۔ یوں جنوبی افریقہ کی ٹیم 158 رنز پر بغیر کسی نقصان کے مضبوط پوزیشن میں دکھائی دے رہی تھی، لیکن بعد میں 216 رنز پر چھ وکٹیں گنوا بیٹھی۔
جنوبی افریقہ کی مشکلات میں اضافے کے بعد مارکو جانسن نے ایک بار پھر ذمہ دارانہ اور جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ریان ریکلٹن کے ساتھ مل کر 95 رنز کی اہم شراکت قائم کی اور اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ جانسن نے گزشتہ ٹیسٹ میں بھی 85 رنز کی اہم اننگز کھیلی تھی۔
دونوں بلے بازوں کی شراکت کے باعث جنوبی افریقہ کا اسکور 300 رنز کے قریب پہنچ گیا اور ٹیم ایک بڑے مجموعے کی جانب بڑھتی دکھائی دینے لگی۔
مچل اسٹارک کی چار گیندوں میں چار وکٹیں
دن کے آخری حصے میں نئی گیند ملنے اور بادل چھانے کے بعد حالات آسٹریلیا کے حق میں تبدیل ہوگئے۔ مچل اسٹارک نے سوئنگ بولنگ کا شاندار مظاہرہ کرتے ہوئے جنوبی افریقی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کردیا۔
اسٹارک نے ایک ہی اوور میں ریان ریکلٹن کو 42 رنز پر ایل بی ڈبلیو اور مارکو جانسن کو 52 رنز پر بولڈ کیا۔ اگلے اوور کی پہلی گیند پر جیرالڈ کوئٹزی بولڈ ہوگئے، جبکہ اگلی گیند پر کگیسو ربادا ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوئے۔
اس طرح جنوبی افریقہ نے صرف دو رنز کے عوض چار وکٹیں گنوا دیں۔ اسٹارک نے مجموعی طور پر 6 وکٹیں حاصل کرکے آسٹریلیا کو میچ میں بھرپور انداز سے واپس لے آئے۔
پہلے روز کے اختتام پر جنوبی افریقہ کی پوری ٹیم 329 رنز بنا کر پویلین لوٹ چکی تھی۔ دن کے کھیل میں جنوبی افریقہ کی جارحانہ بیٹنگ، آسٹریلیا کی ناقص فیلڈنگ، ناتھن لائن کی اہم وکٹیں اور اسٹارک کی آخری لمحات میں غیر معمولی بولنگ نمایاں رہی۔



