فرانس کے معروف فٹبالر اور قومی ٹیم کے کپتان کیلیان امباپے نے چین سے متعلق اپنے متنازع تبصروں پر معافی مانگ لی۔
معروف فٹبالر کے بیان پر چینی کمپنیوں نے تجارتی معاہدے ختم کردیے جبکہ ہسپانوی فٹبال لیگ لا لیگا نے بھی ان کے تبصروں کی مذمت کی ہے۔
خبررساں ادارے رائٹرزکے مطابق امباپے نے اپنے حالیہ انٹرویو میں اپنی تصویرسے متعلق گفتگو کے دوران چین کے سابق رہنما ماؤزے تنگ کے حوالے سے نامناسب تبصرہ کیا تھا جس پر چین میں شدید ردعمل سامنے آیا۔
فرانسیسی پوڈکاسٹ میں ہونے والی گفتگو کی ایک ویڈیو، جسے بعد ازاں ہٹا دیا گیا، میں امباپے ایک مزاحیہ میم کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے چہرے کو کسی شخص کی تصویر پرلگایا گیا تھا جوان کے خیال میں ایک چینی آمرتھا۔
اس تبصرے کو ماؤزے تنگ کی جانب اشارہ سمجھا گیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پران کے خلاف تنقید شروع ہوگئی۔
امباپے نے اپنے بیان پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ انٹرویو میں اپنی تصویر کے حوالے سے کیا گیا تبصرہ نامناسب تھا اور ان کے الفاظ سے چینی عوام کے جذبات مجروح ہوئے، جس پر وہ معافی مانگتے ہیں۔
https://t.co/MQBo9NCSy5
— Kylian Mbappé (@KMbappe) October 27, 2026
چینی کمپنیوں کا تجارتی معاہدے ختم کرنے کا اعلان
امباپے کے متنازع تبصرے کے بعد چین کی معروف کمپنیوں نے ان کے ساتھ تجارتی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق چینی مشروبات ساز کمپنی ڈونگ پینگ نے امباپے کے ساتھ اپنا معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا، جبکہ چین کی بڑی ڈیری کمپنی مینگ نیو نے بھی فرانسیسی فٹبالر کے ساتھ معاہدے ختم کردیے۔
اس پیش رفت سے امباپے کے تجارتی مفادات اور چین میں ان کی تشہیری سرگرمیوں پر اثر پڑنے کا امکان ہے۔ چین عالمی برانڈز اور کھیلوں کی معروف شخصیات کے لیے ایک اہم مارکیٹ ہے، جہاں صارفین کے جذبات اور تاریخی و سیاسی شخصیات سے متعلق بیانات کاروباری تعلقات پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
لا لیگا کی بھی متنازع تبصروں پر مذمت
ہسپانوی فٹبال لیگ لا لیگا نے بھی امباپے کے متنازع تبصروں کی مذمت کی ہے، لیگ کے مطابق امباپے کے تبصرے ذاتی نوعیت کے تھے اور انہیں لا لیگا کے مؤقف یا نمائندگی کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
اسی معاملے کے تناظر میں لا لیگا کے صدر نے بھی چین میں لوگوں کو ناراض کرنے والے اپنے تبصروں پر معافی مانگی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں کے بیانات، خصوصاً حساس تاریخی اور سیاسی موضوعات پر تبصرے، سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے عالمی تنازع کی شکل اختیار کرسکتے ہیں۔
امباپے کی معذرت کے باوجود چینی کمپنیوں کی جانب سے معاہدے ختم کرنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ ایسے تنازعات کھیلوں سے آگے بڑھ کر کاروباری تعلقات کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔


