امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی ختم کرے، بصورت دیگر نومبر کے وسط میں اسلام آباد مارچ کسی صورت ملتوی نہیں ہوگا اور فیصلے سڑکوں پر ہوں گے۔
وزیراعظم سے ملاقات کے بعد اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنے مطالبات وزیراعظم کے سامنے رکھے ہیں۔ اور حکومت ریلیف کا دائرہ بڑھانے پر متفق ہو گئی ہے، تاہم وزیراعظم نے مزید 7 سے 10 دن دینے کی درخواست کی ہے۔
واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف دھرنوں کا آغاز رواں سال 16 اگست کو کیا تھا جس کا آغاز ابتدا میں چاروں صوبوں کے مرکزی شہروں میں ہوا جو بعد ازاں ملک کے دیگر اضلاع تک پھیل گیا تھا۔
جماعت اسلامی نے اس ضمن میں 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی اور بعد ازاں 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا گیا۔ 22 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے بیرون ملک دورے سے واپسی پر ملاقات کا وعدہ کرتے ہوئے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کی جس پر جماعت اسلامی نے لانگ مارچ عارضی طور پر مؤخر کر دیا تھا۔
حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کا فوری خاتمہ چاہتی ہے، تاہم حکومت اسے مرحلہ وار ختم کرکے ریلیف دینے کی بات کر رہی ہے۔ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ عوام کو مزید ریلیف دیا جائے گا، اس لیے ملاقات کو بے نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت ماہانہ 150 ارب روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں جمع کر رہی ہے، جبکہ عوام مہنگائی کے ہاتھوں تنگ ہیں۔ جماعت اسلامی کا مؤقف واضح ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم ہونی چاہیے اور عوام کو فوری ریلیف ملنا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رہے گی، لیکن اسلام آباد مارچ کی تیاریاں بھی ساتھ ساتھ جاری رہیں گی۔ اگر حکومت نے پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو جماعت اسلامی کا لانگ مارچ نومبر کے وسط میں ہرصورت ہو گا اور پھر فیصلہ سڑکوں پر ہی ہو گا۔
’عوام کو ریلیف دینے کیلئے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا‘
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اس سے قبل بھی طویل دھرنے دیئے ہیں اور عوام کو ریلیف دلانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت حکومت میں آنے سے پہلے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں شامل نہ ہونے کی بات کرتی ہے، لیکن عوام کو مہنگائی سے نجات دلانے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مذاکرات کرنے پر جماعت اسلامی کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف دلانے کے لیے فیصلہ سازی کے اختیار رکھنے والوں سے بات کرنا ضروری ہے۔ حکومت کی آئینی و سیاسی حیثیت پر اختلافات اپنی جگہ، لیکن وزیراعظم ہی فیصلوں پر دستخط کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ عوام کو مہنگائی سے ریلیف دلانے کی مہم میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔ جبکہ جماعت اسلامی پُرامن احتجاج کو اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے اور چاہتی ہے کہ معاملات پُرامن طریقے سے حل ہوں، کیونکہ پاکستان موجودہ حالات میں مزید بگاڑ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
امیر جماعت اسلامی نے دیگر معاشی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کپاس کی پیداوار میں کمی، کسانوں کو درپیش مشکلات، ایل پی جی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور گیس کی قلت بھی توجہ طلب مسائل ہیں۔ تاہم حکومت ان معاملات کو مؤثر انداز میں حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔



