امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف 2 روز قبل کراچی سے شروع ہونے والا ‘سپر لانگ مارچ’ مؤخر کرنے کا اعلان کر دیا۔
ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ “وزیراعظم کے پہلے رابطے پر خیرسگالی کے تحت لانگ مارچ چند روز کے لیے روک رہے ہیں۔”
وزیراعظم کی رابطے پر مشاورت مکمل کر لی، ہم اپنے لانگ مارچ اور احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ دھرنے اور کیمپ جاری رکھیں گے، وزیراعظم کی واپسی اور ملاقات تک عوام سے رابطے مزید بڑھائیں گے۔ وزیراعظم کے پہلے رابطے پر خیرسگالی کے تحت لانگ مارچ چند روز کے لیے روک رہے ہیں۔
وزیراعظم نے… pic.twitter.com/ZvalZOfkbX
— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) September 22, 2026
اس سے قبل ایکس پر جاری ایک بیان میں جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ان کے امیر حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ کیا اور ”درخواست کی کہ مارچ کچھ دن ملتوی کردیں۔”
جماعت اسلامی کا مارچ اتوار کو کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن سے شروع ہوا تھا۔ اس موقع پر حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا تھا کہ اگر پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی گئی تو احتجاجی تحریک کو حکومت کے خلاف تحریک میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ
وزیر اعظم نے امیر جماعت اسلامی سے درخواست کی کہ مارچ کچھ دن ملتوی کردیں۔
عوام کے لیے ریلیف پیکج کا اعلان کیا ہے۔ وزیراعظم
اعلان شدہ ریلیف پیکج کسی صورت قبول نہیں، ہم جدوجہد جاری رکھیں گے۔ امیر جماعت… pic.twitter.com/NslYkSiIDx
— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) September 21, 2026
جماعت اسلامی کے مطابق وزیراعظم نے حافظ نعیم الرحمان سے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے اور وہ وطن واپسی پر ان سے ملاقات کرکے عوام کے لیے مزید بہتر ریلیف پیکیج کا اعلان کریں گے۔
تاہم بیان میں بتایا گیا کہ حافظ نعیم الرحمان نے “وزیراعظم کو کہا ہے کہ آپ کی درخواست پر لانگ مارچ میں چند دن کے وقفے کے بارے میں جماعت کی قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلہ کروں گا۔”
جماعت اسلامی سے رابطے کی تصدیق وزیر اعظم آفس سے جاری ایک بیان میں بھی کی گئی جس میں کہا گیا کہ “امیر جماعت اسلامی نے وزیرِ اعظم کی تجویز کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ جماعت اسلامی دھرنا مؤخر کرنے پر غور کر رہی ہے۔”
وزیرِ اعظم کا امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ، وزیرِ اعظم نے امیر جماعت اسلامی کو اسلام آباد میں دھرنا مؤخر کرنے کا کہا.
گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کو ان مشکل حالات میں پیٹرولیم مصنوعات پر ریلیف فراہم کر…
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) September 22, 2026
بیان میں مزید کہا گیا کہ “دونوں رہنماؤں نے وزیرِ اعظم کے دورے کے بعد ملاقات کرنے اور اس امر پر مزید مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔”
پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے رابطے کے بعد پارٹی قیادت سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنے لانگ مارچ اور احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے، دھرنے اور کیمپ جاری رکھیں گے، اور وزیراعظم کے پہلے رابطے پر خیرسگالی کے تحت ملتان میں پڑاؤ کر رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ “کل وزیر اعظم نے فون پر کہا اپنے لانگ مارچ کو ملتوی یا مؤخر کریں، وزیر اعظم کو بتایا عوام پریشان ہیں، ہمیں احتجاج کا کوئی شوق نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا وہ بیرون ملک ہیں، آؤں گا تو ریلیف دوں گا۔ آج طویل مشاورت سے فیصلہ کیا ہے کہ احتجاج سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ لانگ مارچ سے بھی دستبردار نہیں ہوں گے۔”
ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ کل وزیر اعظم نے فون پر کہا اپنے لانگ مارچ کو ملتوی یا مؤخر کریں، وزیر اعظم کو بتایا عوام پریشان ہیں، ہمیں احتجاج کا کوئی شوق نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا وہ بیرون ملک ہیں، آؤں گا تو ریلیف دوں گا۔ آج طویل مشاورت سے فیصلہ… pic.twitter.com/tDALjc29ME
— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) September 22, 2026
مذاکرات کے امکان پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم االرحمان نے کہا کہ وہ “صرف وزیر اعظم سے ملاقات کا موقع دے سکتے ہیں۔ ہم اپنی احتجاجی تحریک سے دستبردار نہیں ہوں گے، اگر حالات خراب ہیں تو اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔ ہمارے دھرنے واحتجاجی کیمپ جاری رہیں گے۔ ہم نے اے بی سی پلان بنا رکھا ہے، صرف ایک جگہ سے اسلام آباد داخل نہیں ہوں گے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم نے اگر ریلیف دیا تو ٹھیک ورنہ لانگ مارچ جاری رہے گا۔ ملتان میں ہمارا پڑاؤ ہے، ریلیف نہ ملنے کی صورت میں لانگ مارچ آگے بڑھے گا۔
