انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کے خلاف اسلام آباد میں سکیورٹی بیریئرز ہٹانے کے مقدمے کا ٹرائل مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کرلیا، جو 29 اکتوبر کو سنایا جائے گا۔
اڈیالہ جیل میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے مقدمے کی سماعت کی، جس کے دوران دونوں ملزمان نے ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات قلمبند کرائے۔
اس دفعہ کے تحت ملزمان کو استغاثہ کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد پر اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔
سماعت کے دوران عدالت کی جانب سے مقرر کیے گئے سرکاری وکیل نے بھی حتمی دلائل مکمل کیے، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔
استغاثہ کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پرالزام ہے کہ انہوں نے اسلام آباد میں بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سکیورٹی روٹ پر نصب رکاوٹیں ہٹائیں اور سرکاری امور کی انجام دہی میں خلل ڈالا، استغاثہ نے دونوں پر عوام کو بدامنی پر اکسانے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت نے 7 اکتوبر کو دونوں ملزمان پرفرد جرم عائد کی تھی تاہم انہوں نے الزامات کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہیں مقدمے کے ریکارڈ کی نقول فراہم نہیں کی گئیں اور کارروائی سے قبل وکلا سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی گئی، عدالت نے ان اعتراضات کے باوجود فرد جرم کی کارروائی مکمل کی تھی۔
مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے تاہم دفاعی وکلا مقررہ کارروائی کے دوران گواہوں پر جرح مکمل نہیں کرسکے۔
اس کے بعد عدالت نے سرکاری وکیل مقرر کیا جبکہ وکیل تیمور جنجوعہ کی جگہ اعتراضات کے بعد عاطف محمود کو ذمہ داری سونپی گئی، سرکاری وکیل نے 23 اکتوبر کو استغاثہ کے گواہوں پرجرح مکمل کی تھی۔
دوسری جانب ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے فرد جرم، مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے اوراڈیالہ جیل میں ٹرائل چلانے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔
26 اکتوبر کو دونوں نے ٹرائل روکنے کی درخواست مسترد کیے جانے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔
یہ مقدمہ سکیورٹی رکاوٹیں ہٹانے کے الزامات سے متعلق ہے جبکہ دونوں کو سوشل میڈیا پوسٹس کے ایک الگ مقدمے میں جنوری 2026 میں پیکا قانون کے تحت 17، 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
سپریم کورٹ نے 17 ستمبرکوان سزاؤں کو معطل کرتے ہوئے ضمانت پررہائی کا حکم دیا تھا تاہم چند گھنٹے بعد انہیں ایک دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا تھا۔


