صائم ایوب کو ون ڈے ٹیم سے چھٹی مل گئی، ٹیسٹ ٹیم سے وہ پہلے ہی ڈراپ ہو چکے ہیں۔ ٹیم سلیکشن کمیٹی تجربے پر تجربہ کر کے، بار بار ناکامیوں کے بعد، کھلاڑیوں کی صلاحیتیں سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
صائم ایوب کو ٹیسٹ ٹیم سے نکالنا درست فیصلہ تھا کیونکہ انہیں ٹیسٹ میچز کھلانا ہی غلطی تھی۔ لیکن ون ڈے ٹیم میں ان کی جگہ بنتی ہے۔ ہاں، ان کی بیٹنگ پوزیشن پر بات ضرور ہو سکتی ہے۔ صائم کو تو ون ڈے ٹیم کا مستقل حصہ ہونا چاہیے۔ ورلڈ کپ 2027 کی پاکستانی ٹیم میں ان کی جگہ پکی ہونی چاہیے۔ صائم صرف بیٹنگ ہی نہیں، بولنگ میں بھی کام آتے ہیں۔
درحقیقت صائم کی موجودہ خراب بیٹنگ فارم میں خود صائم سے زیادہ اس مینجمنٹ کا کردار ہے جس نے انہیں ٹیسٹ ٹیم میں منتخب کیا۔
صائم ایوب پچھلے تین ون ڈے میچوں میں ایک بار بھی ڈبل فگر، یعنی 10 رنز تک نہیں پہنچ سکے۔ انہوں نے تین اننگز میں مجموعی طور پر صرف 21 رنز بنائے۔ یاد رہے کہ صائم نے یہ تینوں ون ڈے انگلینڈ کے خلاف برمنگھم ٹیسٹ کے بعد کھیلے۔
اس ٹیسٹ میچ کے لیے صائم کو ویسٹ انڈیز کی کیریبین پریمیئر لیگ، یعنی ٹی ٹوئنٹی مقابلوں کے دوران اچانک طلب کیا گیا۔ ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ کے لیے نسبتاً سازگار وکٹوں سے اٹھا کر انہیں اچانک انگلش سرزمین پر سوئنگ بولنگ کے سامنے ٹیسٹ کرکٹ کے امتحان میں ڈال دیا گیا۔
قومی کرکٹ صائم ایوب کو پاکستان اسکواڈ سے ریلیز کر دیا گیا
#humnews https://t.co/ZfBo2zQ0sB— HUM News (@humnewspakistan) October 26, 2026
صائم اس ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں ایک رن بھی نہیں بنا سکے۔ پہلی اننگز میں ڈک، یعنی صفر پر آؤٹ ہوئے جبکہ دوسری اننگز میں پہلی ہی گیند پر آؤٹ ہو کر گولڈن ڈک کا شکار بنے۔ یوں دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہونے کے باعث ان کے نام ایک پیئر بھی درج ہو گیا۔
تو غلطی صرف صائم کی نہیں بلکہ انہیں ٹیسٹ ٹیم میں منتخب کر کے ان کی کرکٹ کو کنفیوژ کرنے والی مینجمنٹ کی بھی تھی۔
ہر ٹیم میں چند ہی کھلاڑی ایسے ہوتے ہیں جو ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی، تینوں فارمیٹس میں کامیابی سے کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بابر اعظم کی فارم جیسی بھی ہو، وہ تینوں فارمیٹس میں کامیاب رہے ہیں لیکن ان کے لیے بھی اب کسی ایک سمت کا تعین ضروری ہے۔ انہیں یا تو ٹیسٹ کرکٹ چھوڑ کر محدود اوورز کی کرکٹ پر توجہ دینی چاہیے یا پھر محدود اوورز کی کرکٹ چھوڑ کر صرف ٹیسٹ کھیلنا چاہیے۔
پہلے ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ کے درمیان خلیج نسبتاً کم تھی۔ زیادہ تر کھلاڑی ایک فارمیٹ سے دوسرے میں جلد ایڈجسٹ ہو جاتے تھے۔ لیکن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ اور پھر دنیا بھر میں سال بھر ہونے والی لیگز نے صورتِ حال بدل دی ہے۔ اب ٹی ٹوئنٹی کے اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کے لیے ٹیسٹ کرکٹ میں اور ٹیسٹ کے اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کے لیے ٹی ٹوئنٹی میں خود کو ایڈجسٹ کرنا زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
مائیکل بیون ون ڈے کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین بیٹرز میں سے ایک تھے۔ بہترین فیلڈر تھے اور ساتھ چائنا مین بولنگ بھی کرتے تھے۔ لیکن 232 ون ڈے میچز کے مقابلے میں انہیں صرف 18 ٹیسٹ کھیلنے کا موقع ملا۔
یہی بیون ون ڈے کرکٹ میں 53 سے زیادہ کی بیٹنگ اوسط رکھتے تھے۔ انہیں آؤٹ کرنا بعض اوقات مشکل ہی نہیں ناممکن دکھائی دیتا تھا۔ لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی بیٹنگ اوسط صرف 29 رنز فی اننگز رہی۔
پڑوسی ملک سے ہمارے پاس چتیشور پجارا کی مثال موجود ہے، جنہوں نے 103 ٹیسٹ میچز کے مقابلے میں صرف پانچ ون ڈے کھیلے حالانکہ انہیں وہ پانچ ون ڈے بھی نہیں کھلانے چاہیے تھے۔
ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اس معاملے میں ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کی ٹیم مینجمنٹ کئی مواقع پر بہتر فیصلہ سازی کرتی رہی ہیں۔
سیکھنے کے لیے تو مثالوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے لیکن ایک بار پھر صائم کی طرف آتے ہیں۔
سلمان علی آغا کے بعد صائم ایوب دوسرے ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کے لیے تین ون ڈے سنچریاں بنائی ہیں۔ صائم نے تینوں سنچریاں افریقا میں اسکور کیں، جن میں سے دو جنوبی افریقا کے خلاف جنوبی افریقا میں بنائیں۔
CENTURY!
Saim Ayub brings up his 3rd ODI hundred on 91 balls (13 fours, 2 sixes) against South Africa! His 2nd century in the series! What a brilliant innings!
#SAvPAK https://t.co/wDVDMr5uQp— PTV Sports (@PTVSp0rts) December 22, 2024
یعنی تینوں سنچریاں ان کنڈیشنز میں بنائیں جہاں 2027 کا ورلڈ کپ کھیلا جانا ہے۔
اپنی پچھلی تحریر میں بھی یہ بات کر چکا ہوں کہ سلمان علی آغا کو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ نہیں کھیلنی چاہیے۔ اسی طرح سعود شکیل کو ایک کامیاب ٹیسٹ اسپیشلسٹ بننے کے لیے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے، دونوں فارمیٹس چھوڑنے ہوں گے۔
اب صاحبزادہ فرحان کو موقع دینا درست فیصلہ ہے لیکن صائم ایوب کو ون ڈے کرکٹ کے مستقبل کے منصوبوں سے باہر کرنا سمجھ سے بالاتر ہوگا۔ اگر صائم نے خود ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کی درخواست کی ہے تو یہ ان کی فارم بحال کرنے کا ایک موقع ضرور ہو سکتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ انہیں مستقل طور پر ون ڈے ٹیم سے باہر کر دیا جائے۔
ہاں، صائم کو ٹیسٹ ٹیم سے دور، بہت دور رکھیں تاکہ وہ اپنے اصل کھیل پر توجہ دے سکیں۔
پاکستان کو ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں صاحبزادہ فرحان، فخر زمان، صائم ایوب اور معاذ صداقت جیسے کھلاڑیوں پر مشتمل ٹاپ آرڈر تیار کرنا چاہیے۔ ون ڈے میں بابر اعظم چوتھی یا پانچویں پوزیشن پر کھیل سکتے ہیں۔
ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں رضوان کے بعد وکٹ کیپنگ کا مسئلہ دردِ سر بنا ہوا ہے۔ اعظم خان، عثمان خان اور محمد حارث کو درجنوں مواقع مل چکے ہیں۔ خواجہ نافع کو بھی آزمایا جا چکا ہے لیکن بیٹنگ میں جو فلیئر سعد بیگ کے ہاں نظر آیا، وہ اب تک کم ہی دکھائی دیا ہے۔ اس لیے سعد بیگ کو گروم کرنا چاہیے۔
کون سا کھلاڑی کس فارمیٹ کی کرکٹ کے لیے موزوں ہے، یہ سمجھنا اتنا مشکل نہیں لیکن ہماری مینجمنٹ نے ابھی سے عرفات منہاس اور ان کے چھوٹے بھائی سمیر منہاس کو ٹیسٹ ٹیم میں جھونک دیا ہے جبکہ یہ دونوں کھلاڑی ورلڈ کپ تک پاکستان کی محدود اوورز کی کرکٹ کے اہم ستون بن سکتے ہیں۔



