سلمان علی آغا کو اب نہیں کھلانا چاہیے؟
سلمان علی آغا کو پلیئنگ الیون میں تو کیا، ٹیم کے سولہ کھلاڑیوں میں بھی جگہ نہیں ملنی چاہیے۔
میری یہ رائے، جو غلط بھی ہوسکتی ہے، آج سری لنکا کے خلاف ون ڈے میچ میں سلمان علی آغا کی شاندار سنچری کے بعد مزید پختہ ہوچکی ہے۔
آپ بھی سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیا بات ہوئی؟ سلمان علی آغا نے آخر ایسا کیا قصور کیا ہے کہ انہیں ٹیم میں نہیں ہونا چاہیے؟
اصل میں غلطی سلمان علی آغا کی نہیں، انہیں ٹیم میں منتخب کرنے والوں کی ہے۔
سلمان علی آغا کے پاس اب صرف کامیاب نہیں بلکہ عظیم کرکٹر بننے کا موقع ہے، جس کے لیے غالباً انہیں اپنے اندر لگی آگ کو بجھنے نہیں دینا ہوگا اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے دور رہنا ہوگا۔
Consecutive fours to bring up a memorable ODI 💯🙌
@SalmanAliAgha1 gets to his century in style, soaking in the applause from the Rawalpindi crowd 🏏
#PAKvSL | #CricketKaJashan | #BackTheBoysInGreen https://t.co/XsJzt2YTjt
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) October 18, 2026
یہ فیصلہ صرف سلمان کو ہی نہیں بلکہ سعود شکیل اور پاکستان کرکٹ کی باگ ڈور سنبھالنے والوں کو بھی کرنا پڑے گا۔
کوئی کچھ بھی کہے، لاکھ وجوہات بتائے، سلمان علی آغا اور سعود شکیل پاکستان کی بیٹنگ لائن کے وہ ستون ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکتا ہے۔
سلمان علی آغا کو ٹیسٹ اور ون ڈے، جبکہ سعود شکیل کو صرف ٹیسٹ ٹیم میں لازمی جگہ دینی چاہیے۔
سعود شکیل نے اگر ٹیسٹ کے ساتھ ون ڈے بھی کھیلا تو ہم ایک بار پھر اپنا یہ ٹیلنٹ داؤ پر لگادیں گے۔ سعود شکیل کو بہت جلد یہ سمجھ لینا چاہیے کہ انہیں اسد شفیق جتنے ون ڈے بھی نہیں کھیلنے چاہییں۔ بس، ٹھیک ہے! ورلڈ کپ کھیل لیا، پی ایس ایل کھیل لی، اب بس!
کرکٹ بورڈ بھی سعود شکیل اور سلمان علی آغا کو تین سال تک ٹیم میں جگہ کی ضمانت اور معاہدہ دے۔ ساتھ ہی پی ایس ایل سمیت ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگائے، لیکن اس پابندی کے بدلے انہیں اضافی معاوضہ بھی دے۔
ہم پہلے ہی عاصم کمال اور محمد وسیم جیسے ٹیلنٹ ضائع کرچکے ہیں۔ شاید اُس وقت ہمارے پاس ان سے بھی بڑے کھلاڑی موجود تھے، لیکن اب تو ہم کرکٹ کے ”ٹیل اینڈرز“ بن چکے ہیں۔ جہاں جارہے ہیں، وہاں بری طرح ہار رہے ہیں۔
کمزور ٹیلنٹ بھی غالباً اس کی ایک وجہ ہوگا، لیکن اس سے زیادہ قصور ٹیم سلیکشن کا ہے، جہاں غلط ٹیم کمبی نیشن میں غلط کھلاڑی منتخب کیے جاتے ہیں۔
ابھی پچھلے چند برسوں ہی کی بات کرلیں۔ آصف علی، حسین طلعت، حیدر علی، خوشدل شاہ، اعظم خان، فہیم اشرف، شاداب خان، محمد نواز اور سب سے بڑھ کر عثمان خان کو کتنے زیادہ اور بڑے مواقع دیے گئے۔
ابھی ایشین گیمز ہی کی مثال لے لیں۔ بھارت کی بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے کھلاڑیوں سے بھری ٹیم کے خلاف ہم پہلے ایک رائٹ آرم لیگ اسپنر کو منتخب کرتے ہیں اور پھر دو لیفٹ ہینڈرز کے سامنے اس سے دوسرا ہی اوور کروا لیتے ہیں۔ آگے سب نے دیکھا کہ کیا ہوا اور کیسے ہوا۔
صائم ایوب، جو اپنی بیٹنگ سے زیادہ بہتر بولنگ کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میں جگہ بنا لیتے ہیں، انہیں کرکٹ کی سمجھ بوجھ رکھنے والا کوئی بھی شخص ٹیسٹ ٹیم میں کیسے شامل کرسکتا ہے؟
صائم ٹیسٹ کھیلنے جاتے ہیں تو ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے شاٹس بھی بھول جاتے ہیں۔
پڑوس میں ابھیشیک شرما کی مثال لے لیں۔ وہ اب تک 67 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیل چکے ہیں، لیکن انہیں ٹیسٹ کیپ تو درکنار، ون ڈے ڈیبیو سے بھی دور رکھا گیا ہے۔ جبکہ یہاں صائم ایوب ایک نہیں، دو نہیں، پورے نو ٹیسٹ کھیل چکے ہیں۔
تو یہاں قصور صائم کا ہوا یا انہیں کھلانے والوں کا؟
اسی طرح حسن نواز کی جس طرح کی بیٹنگ ہے انہیں فی الحال ون ڈے سے بھی دور رکھنا چاہئے ہاں البتہ معاذ صداقت میں دونوں طرح کی لمیٹڈ اوورز کرکٹ کھیلنے کی صلاحیت ہے ۔ لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں ان دونوں کی مستقبل قریب میں کوئی جگہ نہیں اور نہ ہی ان دونوں کو ٹیسٹ کرکٹ کا سوچنا چاہئے ۔ ہم تو فہیم اشرف کو بھی 17ٹیسٹ میچز میں چانس دے چکے ہیں۔
خیر، بات چل نکلی ہے تو دور تلک چلی گئی۔ واپس سلمان علی آغا پر آتے ہیں۔
انہیں ٹی ٹوئنٹی کھلایا، غلط! انہیں کپتان بنایا، غلط! پھر ٹیسٹ کی کپتانی سے جس طرح ہٹایا، وہ غلط! پھر انہیں ڈراپ کیا، وہ غلط! پھر سلمان علی آغا نے متبادل کھلاڑی کی حیثیت سے پاکستان اور انگلینڈ کے میچ میں ایک شاندار کیچ پکڑا، لیکن اس کے باوجود انہیں وطن واپسی کا پروانہ تھما دیا گیا، یہ بھی غلط!
پھر واپس ایک شاہی تقریب کے لیے بلایا، وہ بھی غلط!
لیکن یہاں سے سلمان کے اندر وہ آگ بھڑکی، جس کے بعد وہ ایک عظیم کھلاڑی بن سکتے ہیں۔
– Dropped from the Test squad.
– Proved himself in domestic cricket.
– Removed as T20I captain.
– Responded with his fastest ODI hundred.SALMAN ALI AGHA LETTING HIS BAT DO THE TALKING. 🥶🇵🇰 https://t.co/jHL6tPvcky
— Sheri. (@CallMeSheri1_) October 18, 2026
سب سے پہلے انہوں نے اس ملاقات میں نہ جانے کا بالکل صحیح فیصلہ کیا۔ پھر وطن واپس آکر فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کا درست فیصلہ کیا۔
شاندار ٹرپل سنچری بنا کر جب وہ منہ توڑ جواب دے سکتے تھے، تو انہوں نے جس طرح سلجھی ہوئی اور پختہ گفتگو کی، اس نے یہ اشارے دیے کہ سلمان علی آغا اُس راہ پر نہیں چلے جس پر چل کر انسان جل کر خاک ہوجاتا ہے، بلکہ وہ اس آگ میں تپ کر کندن بن گئے ہیں۔
آج کی سنچری بھی یہ بتاتی ہے کہ سلمان علی آغا ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ میں نہ صرف اپنی بیٹنگ بلکہ آف اسپن بولنگ سے بھی اپنا اور پاکستان کا نام روشن کرسکتے ہیں۔
لیکن اس کے لیے انہیں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ سے دور، بہت دور رہنا ہوگا!



