بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے میں نیا انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق مبینہ حملہ آوروں کا ابتدائی ہدف اداکار عامر خان تھے، تاہم ان تک رسائی حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد انہوں نے ٹائیگر شروف کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
بھارتی خبر رساں ادارے انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ حملہ آور 20 ستمبر کو ہریانہ سے ممبئی پہنچے تھے اور تقریباً ایک ماہ تک عامر خان کی رہائشگاہ کے اطراف نگرانی کرتے رہے۔ اس دوران انہوں نے کم از کم تین مرتبہ ان کے گھر کے علاقے کا جائزہ لیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کو عامر خان کو نشانہ بنانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ تاہم وہ اکثر فلموں کی شوٹنگ کے لیے گھر سے باہر ہوتے تھے یا کئی کئی روز تک گھر سے نہیں نکلتے تھے، جس کے باعث حملہ آوروں کو موقع نہیں مل سکا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر کے آخر میں مبینہ حملہ آوروں نے اپنا منصوبہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور ٹائیگر شروف کو نشانہ بنانے کی تیاری شروع کر دی۔
ٹائیگر شروف کو کیوں نشانہ بنایا گیا؟
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مطابق ٹائیگر شروف کو نسبتاً آسان ہدف سمجھا گیا، کیونکہ وہ ہر اتوار ممبئی کے علاقے جوہو میں ایک پارک کے قریب فٹ بال کھیلنے جاتے تھے۔
مبینہ حملہ آوروں نے سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز اور ریلز کے ذریعے اداکار کی نقل و حرکت پر نظر رکھی اور ان کے معمولات کا جائزہ لیا۔
18 اکتوبر کو جوہو کے علاقے میں فٹ بال کھیلنے کے بعد روانگی کے وقت ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی۔ اداکار اس واقعے میں محفوظ رہے، تاہم ان کے ڈرائیور اور ایک راہ گیر زخمی ہو گئے۔
عامر خان کو پہلے بھی دھمکیاں مل چکی تھیں
رپورٹ کے مطابق پولیس حکام کو شبہ ہے کہ عامر خان کو نشانہ بنانے کا مبینہ منصوبہ رواں سال جولائی میں انہیں ملنے والی دھمکیوں سے منسلک ہو سکتا ہے۔ اس وقت لارنس بشنوئی گینگ سے وابستگی کا دعویٰ کرنے والے ایک شخص نے اداکار کو دھمکی دی تھی۔
پولیس اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ فائرنگ کے واقعے میں ملوث مبینہ حملہ آوروں اور ان کے ساتھیوں کا منصوبہ کیا تھا اور اس میں دیگر شخصیات کا کوئی کردار یا تعلق تھا یا نہیں۔



