راولپنڈی میں آج آخری سانس لینے والے سابق آرمی چیف جنرل (ر)عبدالوحید کاکڑ نے نوے کی دہائی میں ملک میں جاری سیاسی اور حکومتی بحران کے خاتمے کے لیے ’کاکڑ فارمولا‘ متعارف کرایا تھا۔
ان کی وفات پر جہاں سیاسی، حکومتی اور عسکری رہنماؤں کی جانب سے تعزیت اور خراج عقیدت کے پیغامات کا سلسلہ جاری ہے، وہیں عوامی حلقوں میں ’کاکڑ فارمولا‘ بھی دوبارہ زیر بحث آیا ہے۔
آئیے جانتے ہیں کہ یہ فارمولا کیا تھا اور اسے متعارف کرانے والے اس وقت کے آرمی چیف نے 3 دہائیاں قبل ملک میں پیدا ہونے سنگین سیاسی بحران سے نمٹنے میں کیا کردار ادا کیا۔
یہ بات ہے 18 اپریل 1993 کی، جب اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے آئین کے آرٹیکل 58 ٹو بی کے تحت وزیراعظم نواز شریف کی حکومت برطرف کر دی تھی۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کی حکومت بحال کر دی تھی مگر وزیراعظم اور صدر کے درمیان کشیدگی ختم نہ ہو سکی۔
اس موقع پر جنرل(ر) عبدالوحید کاکڑ کی ثالثی میں سیاسی بحران کے خاتمے کیلئے صدر غلام اسحاق خان، وزیراعظم نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بے نظیر بھٹو کے درمیان ایک فارمولا طے پایا تھا جسے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ’کاکڑ فارمولا‘ کہا جاتا ہے۔
اس فارمولے کے بنیادی نکات میں وزیراعظم کا استعفیٰ، قومی اسمبلی سمیت اسمبلیوں کی تحلیل، نئے عام انتخابات کا انعقاد، غیر جانب دار نگران وزیراعظم کی تقرری اور صدر غلام اسحاق خان کا عہدہ چھوڑنا شامل تھا۔
فارمولے پر عملدرآمد کے نتیجے میں نواز شریف اور غلام اسحاق خان دونوں اپنے عہدوں سے الگ ہوگئے ۔
6 اکتوبر 1993 کو عام انتخابات ہوئے جن میں پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی 89 نشستیں حاصل کیں جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) 73 نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی۔
انتخابات کے بعد بے نظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیراعظم بنیں۔ تاہم ان کی حکومت بھی اپنی مدت پوری نہ کرسکی اور نومبر 1996 میں صدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت برطرف کر دی، جس کے بعد 1997 میں ایک مرتبہ پھر عام انتخابات منعقد ہوئے۔

