سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ 89 برس کی عمر میں راولپنڈی میں انتقال کر گئے جس پر صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیر اعظم شہباز شریف، اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ نے اپریل 1993 میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کی جانب سے وزیرِ اعظم نواز شریف کی حکومت کو برطرف کر دینے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی اور حکومتی بحران کے خاتمے کے لیے ’کاکڑ فارمولا‘ متعارف کرایا تھا جس کے تحت نواز شریف، بے نظیر بھٹو، اور غلام اسحاق خان کے درمیان معاملات طے پانے کے بعد ملک میں نئے الیکشن کی راہ ہموار ہوئی تھی۔
ایوانِ صدر سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت نے جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر ان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور متوفی کے لیے دعائے مغفرت بھی کی۔
صدرِ مملکت کا جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار۔
صدر زرداری کی مرحوم جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے لیے دعائے مغفرت۔
اللّہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے: صدر
صدرِ پاکستان کی سوگوار خاندان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا۔
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) October 26, 2026
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی جنرل عبدالوحید کاکڑ (ر) کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف نے ان کی پاک فوج کے لیے گراں قدر خدمات پر خراجِ عقیدت پیش بھی کیا۔
اسی طرح پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاک فوج کے تمام رینکس نے جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاک فوج نے جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کی شاندار عسکری خدمات، قیادت اور پاک فوج کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔
انہوں نے سوگوار خاندان سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبر و استقامت دے۔
جنرل(ر) عبدالوحید کاکڑ کون تھے؟
جنرل(ر) عبدالوحید کاکڑ نے 18 اکتوبر 1959 کو پاکستان آرمی کی فرنٹیئر فورس رجمنٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ کے طور پر کمیشن حاصل کیا۔ ان کا تعلق 20ویں پاکستان ملٹری اکیڈمی لانگ کورس سے تھا۔ جنرل وحید کاکڑ 12 جنوری 1993 تا 12 جنوری 1996 تک پاکستان کے آرمی چیف رہے۔
جنرل کاکڑ نے ابتدائی تعلیم پشاور سے حاصل کی اور بعد میں ایڈورڈز کالج پشاور سے تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں فوجی تربیت حاصل کی۔
پاکستان ملٹری اکیڈمی، کاکول: فوجی تربیت حاصل کی اور 20ویں لانگ کورس کے ذریعے فوج میں کمیشن حاصل کیا۔
کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج، کینیڈا: جنگی حکمت عملی، فوجی منصوبہ بندی اور کمان سے متعلق اعلیٰ تربیت حاصل کی۔ بعض سوانحی حوالوں کے مطابق وہ امتحانات میں اول رہے۔
نیشنل ڈیفنس کالج، راولپنڈی: اعلیٰ فوجی قیادت، دفاعی منصوبہ بندی اور قومی سلامتی سے متعلق تعلیم حاصل کی۔
1987 سے 1989 کے دوران جنرل کاکڑ نے آرمی جی ایچ کیو میں ایڈجوٹنٹ جنرل کی ذمہ داریاں ادا کیں۔جنرل کاکڑ نے سیالکوٹ کے چونڈہ محاذ پر فرنٹیئر فورس کے ایک یونٹ کے ساتھ بھی خدمات انجام دیں۔
