ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچلنے کے مقدمے کے مرکزی ملزم توقیر نذیر کی پولیس مقابلے میں ہلاکت نے پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے طریقۂ کار پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے ملزمان کو مقابلوں میں ہلاک کرنے کے احکامات دینے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کے ساتھی انہیں چھڑانے کے لیے مسلح ہوکر آتے ہیں تاہم مختلف مقابلوں میں ملزمان کی ہلاکت اور مبینہ حملہ آوروں کے فرار ہونے کے واقعات پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔
ملتان میں نوجوان کو گاڑی تلے کچلنے کا واقعہ
ملتان کی ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں 15 سالہ یتیم لڑکے وسیم عباس کو گاڑی تلے کچلنے کے الزام میں توقیر نذیر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نوجوان کو گاڑی سے بچنے کے لیے بھاگتے اور پھر گاڑی کی زد میں آتے دیکھا گیا۔
پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جہاں سے اس کا جسمانی ریمانڈ منظور ہوا۔پولیس کے مطابق توقیر نذیر بعد میں حراست سے فرار ہوگیا اور 21 اکتوبر کی صبح بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک ہوگیا۔
سی سی ڈی کے مطابق اہلکاروں نے بہاولپور کے ناردرن بائی پاس کے قریب موٹر سائیکل پر سوار2افراد کو روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے فائرنگ کردی۔ پولیس کی جوابی فائرنگ میں توقیر نذیر ہلاک ہوگیا جبکہ اس کا مبینہ ساتھی فرار ہوگیا۔
عظمیٰ بخاری کا مؤقف کیا ہے؟
21 اکتوبر کو جیو نیوز کے پروگرام ’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ سی سی ڈی میں مبینہ پولیس مقابلوں کی تعداد کسی منظم حکومتی پالیسی یا وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایات کا نتیجہ ہے۔
پروگرام کے میزبان شاہ زیب خانزادہ نے سوال اٹھایا کہ مشتبہ ملزمان کو اس طرح ہلاک کرنا کس حد تک انصاف کے تقاضے پورے کرتا ہے اور کیا عدالتی کارروائی سے گریز جرائم کے مسئلے کو مزید پیچیدہ نہیں بنا سکتا؟
View this post on Instagram
عظمیٰ بخاری نے جواب میں کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث افراد اکثر منظم گروہوں کا حصہ ہوتے ہیں اور ان کے ساتھی انہیں چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد کو چھڑانے آنے والے لوگ ’مٹھائیاں لے کر نہیں آتے بلکہ اسلحہ لے کر آتے ہیں‘۔
انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز نے سی سی ڈی کو ملزمان کے انکاؤنٹر کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ کو پہلے سے معلوم نہیں ہوسکتا کہ کسی کارروائی کے دوران مسلح تصادم ہوگا یا نہیں۔
بار بار پولیس مقابلوں پر سوالات
پروگرام میں سوال اٹھایا گیا کہ سی سی ڈی کی کارروائیوں میں بار بار ایسا کیوں ہوتا ہے کہ ملزمان کے ساتھی مبینہ طور پر پولیس پر حملہ کرتے ہیں، ملزم فائرنگ کے تبادلے میں مارا جاتا ہے اور حملہ آور فرار ہوجاتے ہیں۔
اس حوالے سے لاہور میں ریسٹورنٹ ڈکیتی کے الزام میں 3 افراد کی ہلاکت، 30 روپے کے تنازع پر قتل کے ملزم 2بھائیوں اور جولائی و اگست میں پیش آنے والے دیگر مبینہ پولیس مقابلوں کا ذکر بھی کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے ان واقعات کی بنیاد پر وزیراعلیٰ کی جانب سے انکاؤنٹرز کے احکامات جاری کرنے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز ایسا حکم کیوں دیں گی؟
چکوال واقعہ، سی سی ڈی اہلکار کی غفلت سامنے آگئی
سی سی ڈی کے طریقۂ کار پر بحث کے دوران چکوال میں پیش آنے والا ایک واقعہ بھی اہمیت اختیار کرگیا، جس میں 10 اور 11 جون کی درمیانی شب آسٹریلوی شہری 9 سالہ ہانیہ احمد سی سی ڈی کے ایک کانسٹیبل کی فائرنگ سے جاں بحق ہوگئی تھی۔
ہانیہ اپنے والدین اور بھائی کے ساتھ گاڑی میں موجود تھی جب سی سی ڈی تھانے کے باہر 2 مسلح افراد خاندان کو لوٹ رہے تھے۔ اسی دوران اہلکار نے گاڑی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں بچی جاں بحق جبکہ اس کے والد اور بھائی زخمی ہوگئے۔
تحقیقات میں سی سی ڈی اہلکار کو واقعے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ انکوائری کے مطابق اہلکار نے ڈیوٹی افسر یا کسی سینئر افسر کی اجازت کے بغیر اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔
اہلکار نے دعویٰ کیا کہ ڈاکوؤں میں سے ایک نے اس پر فائرنگ کی تھی اور اس نے اپنے دفاع میں کارروائی کی تاہم ڈیوٹی افسر اور3دیگر اہلکاروں نے اس بیان کی تردید کی۔ انکوائری نے اس کے مؤقف کو حقائق کے منافی قرار دیا اور بتایا کہ اس نے اجازت کے بغیر نجی موٹر سائیکل پر خاندان کی گاڑی کا تعاقب بھی کیا تھا۔
یہ واقعہ اس خطرے کی نشاندہی کرتا ہے کہ کسی گاڑی یا شخص کو جرائم سے منسلک سمجھ کر جلد بازی میں طاقت استعمال کرنے سے بے گناہ افراد کی جان بھی جاسکتی ہے۔
حنا پرویز بٹ کی پوسٹ سے تنازع مزید بڑھ گیا
ملزم توقیر نذیر کی ہلاکت کے بعد مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ مریم نواز شریف کے دور حکومت میں انصاف فوری ملتا ہے۔ انہوں نے بعد میں یہ پوسٹ حذف کردی۔
عظمیٰ بخاری نے اس بیان سے حکومت کو الگ کرتے ہوئے کہا کہ حنا پرویز بٹ ماضی میں بھی بعض تبصرے کرچکی ہیں جن کے مضمرات کو مکمل طور پر نہیں سمجھا گیا اور جن سے حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔
بعدازاں حنا پرویز بٹ نے وضاحت کی کہ ان کی پوسٹ ذاتی رائے اور ایک عام شہری کے جذبات کی عکاسی تھی، حکومت کا سرکاری مؤقف نہیں۔
وضاحتی بیان: میں نے یہ ٹویٹ کہ ’’یہ مریم نواز صاحبہ کی حکومت ہے، یہاں فوری انصاف ملتا ہے‘‘ اپنی ذاتی رائے کے طور پر کیا تھا۔ یہ نہ حکومت کے خلاف کوئی چارج شیٹ تھی اور نہ کسی ادارے پر تنقید۔ میرے خیال میں اس پر ہونے والی تنقید غیر ضروری ہے۔
میں اپنی کولیگ عظمیٰ بخاری کا احترام کرتی ہوں۔ بطور وزیر اطلاعات حکومت کی پالیسی واضح کرنا اور اس کا دفاع کرنا ان کی ذمہ داری ہے، لیکن میرے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر دی گئی رائے کو ناسمجھی قرار دینا یا اس سے حکومت کی شرمندگی جوڑنا غیر ضروری تھا۔ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتی کہ میری رائے سے حکومت کو شرمندگی ہوئی۔— Hina Parvez Butt (@hinaparvezbutt) October 22, 2026



