پنجاب کے ضلع ملتان کی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں 15 سالہ مزدور کو’کام چھوڑ کر جانے کی پاداش‘ میں گاڑی تلے کچل دیا گیا،ایک ملزم گرفتار جبکہ دوسرا موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک لڑکا بھاگ رہا ہے جبکہ پیچھے سے گاڑی اس کا پیچھا کررہی ہے جو بعدازاں بے قابو ہو کر بچے پر چڑھ دوڑتی ہے، گاڑی سے دونوں افراد کو باہر نکل کر اور پھر واپس جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
This disturbing CCTV footage from Multan shows a 15-year-old child chased down and crushed by a car.
The men involved claimed that he was their house-help who had run away days earlier. After being hit, he was dragged onto the pavement, and the perpetrators fled the scene.
This is not “reckless driving” – the vehicle was deliberately used as a weapon. This is a child’s life – and the case must be investigated and prosecuted with the seriousness it deserves.
No influence. No compromise. No escape from accountability.
— Voice Of Customer (@VoiceOfCustPK) October 20, 2026
واقعے کا مقدمہ تھانہ ڈی ایچ اے میں درج کرلیا گیا جس میں توقیر نذیر اور امجد علی کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر سب انسپکٹر لیاقت علی کی مدعیت میں قتل کی دفعات کے تحت درج کی گئی ہے جس کے مطابق ملزمان نے گاڑی نمبر بی وی ای 474 وسیم عباس پر چڑھا دی جس سے اس کا سر کوٹھی نمبر اے 3 کے پلر سے ٹکرایا اورموقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان گاڑی اسٹارٹ نہ ہونے پر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک عینی شاہد نے توقیر نذیر کو پکڑ لیا جبکہ دوسرا ملزم فرار ہوگیا۔
ملزم توقیر نذیر کے مطابق وسیم استاد کی بات نہ ماننے کے بعد سائٹ سے بھاگ گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وسیم پہلے بھی بھاگ جاتا تھا اور اسے پکڑ کر واپس لایا جاتا تھا۔
توقیر نے دعویٰ کیا کہ وسیم کو بلاک کرنے کے دوران گاڑی سلپ ہوگئی۔
ادھر یتیم خانے کی انتظامیہ کے مطابق وسیم عباس گزشتہ 5 سال سے وہاں رہائش پذیر تھا اور الیکٹریشن کا کام سیکھنا چاہتا تھا۔ یتیم خانے کے جنرل سیکرٹری شعیب حیدر نے بتایا کہ وسیم گزشتہ 6 روز سے توقیر کے پاس کام سیکھ رہا تھا۔
شعیب حیدر کے مطابق وسیم کو تسلی کرنے کے بعد توقیر کے پاس بھیجا گیا تھا، جہاں تقریباً 40 سے 45 لڑکوں کی ٹیم کام کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توقیر کے خلاف پہلے کوئی شکایت سامنے نہیں آئی تھی تاہم اب وہاں کام کرنے والے ایک اور لڑکے کو بھی واپس لے آئے ہیں۔
شعیب حیدر نے بتایا کہ توقیر پیدل بھاگتے ہوئے تھک گیا تو اس نے گاڑی میں وسیم کا پیچھا کیا۔ ان کے مطابق بچہ کس وجہ سے بھاگا تھا، اس بارے میں ملزم ہی تفتیش کے دوران بتائے گا۔
وسیم کے ساتھ یتیم خانے میں رہائش پذیر اس کے کزن ندیم نے بتایا کہ وہ 6 سال سے یتیم خانے میں مقیم ہے۔ ندیم کے مطابق وسیم شرارتیں کرتا تھا اور کہتا تھا کہ وہ الیکٹریشن کے پاس نہیں جانا بلکہ گھر واپس جانا چاہتا ہے۔ ندیم کا کہنا تھا کہ وہ توقیر کو نہیں جانتا اور نہ ہی اس سے ملا ہے۔
وسیم کے نانا نے بتایا کہ وہی اسے یتیم خانے میں داخل کرانے کے لیے لائے تھے تاکہ وہ تعلیم حاصل کرسکے۔ نانا نے ملزم کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
وسیم کے چچا جعفر حسین نے کہا کہ ان کے بھتیجے کے ساتھ جو ہوا وہ اس کی حالت دیکھ کر جانتے ہیں۔ انہوں نے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ جعفر حسین کے مطابق وسیم کے والد 9 سال پہلے انتقال کر گئے تھے، جس کے بعد پہلے نانا اور پھر انہوں نے اس کی کفالت کی۔
اہل علاقہ کے مطابق وسیم کے والد کے انتقال کے بعد اس کی والدہ کی شادی اس کے چچا سے کردی گئی تھی جس کے بعد وسیم اور اس کے بھائی کو نانا نے یتیم خانے میں داخل کرادیا تھا۔
15 سالہ وسیم عباس کی لاش کی حالت خراب ہونے کے باعث نماز جنازہ رات گئے موضع دولت پور میں ادا کی گئی، جس میں قریبی رشتہ داروں اور یتیم خانے کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد وسیم کو آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔



