کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ(سی سی ڈی) بہاول پور کا کہنا ہے کہ ملتان میں بچے کو گاڑی کے نیچے کچلنے والا مرکزی ملزم فرار ہونے کے بعد ’پولیس مقابلے‘ میں ہلاک ہوگیا۔
ملزم توقیر نے پیر کے روز کار کی ٹکر سے 15 سالہ یتیم لڑکے وسیم عباس کو کچل دیا تھا۔ گزشتہ روز ہی ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے 4 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا تھا۔
ترجمان سی سی ڈی بہاولپور کے مطابق مرکزی ملزم توقیر گزشتہ رات سی سی ڈی ملتان کی حراست سے فرار ہو گیا تھا،اہکاروں نے موٹر سائیکل پر سوار 2مشکوک افراد کو روکنے کی کوشش کی جنہوں نے رکنے کی بجائے ٹیم پر فائرنگ کردی۔
فائرنگ کے تبادلے میں ایک موٹر سائیکل سوار مشکوک شخص ہلاک ہو گیا جس کی شناخت توقیر نذیر کے نام سے ہوئی،اسی ملزم نے یتیم بچے وسیم کو اپنی گاڑی کے نیچے کچل کر شہید کر دیا تھا،ملزم کا ساتھی موقع سے فائرنگ کرتا ہوا فرار ہو گیا۔
وسیم عباس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ
دوسری جانب مقتول وسیم عباس کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی جس کے مطابق اس کی لاش کا پوسٹ مارٹم نشتر اسپتال میں کیا گیا، پولیس کی جانب سے لاش شام ساڑھے 8 بجے اسپتال منتقل کی گئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتول کا چہرہ بری طرح بگڑا ہوا تھا، سر اور چہرے کے بائیں حصے پر گہرے زخم تھے اس کے علاوہ مقتول کی کھوپڑی،جبڑے اور ناک کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی،مقتول کے دائیں گھٹنے پر بھی رگڑ کے زخم پائے گئے۔
واقعے کی ایف آئی آر میں کیا تھا؟
واقعہ 2 دن قبل نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پیش آیا جس کا مقدمہ تھانہ ڈی ایچ اے میں درج کیا گیا تھا، مقدمے میں توقیر نذیر اور امجد علی کو نامزد کیا گیا۔
ایف آئی آر سب انسپکٹر لیاقت علی کی مدعیت میں قتل کی دفعات کے تحت درج کی گئی جس کے مطابق ملزمان نے گاڑی نمبر بی وی ای 474 وسیم عباس پر چڑھا دی جس سے اس کا سر کوٹھی نمبر اے 3 کے پلر سے ٹکرایا اورموقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ملزمان گاڑی اسٹارٹ نہ ہونے پر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک عینی شاہد نے توقیر نذیر کو پکڑ لیا جبکہ دوسرا ملزم فرار ہوگیا۔
ملزم توقیر نذیر کے مطابق وسیم استاد کی بات نہ ماننے کے بعد سائٹ سے بھاگ گیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وسیم پہلے بھی بھاگ جاتا تھا اور اسے پکڑ کر واپس لایا جاتا تھا۔
توقیر نے دعویٰ کیا کہ وسیم کو بلاک کرنے کے دوران گاڑی سلپ ہوگئی۔
یتیم خانے کے جنرل سیکرٹری شعیب حیدر نے کیا کہا؟
یتیم خانے کے جنرل سیکرٹری شعیب حیدر نے جنازے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وسیم عباس گزشتہ 5 سال سے یتیم خانے میں رہائش پذیر تھا اور الیکٹریشن کا کام سیکھنا چاہتا تھا اور گزشتہ 6 روز سے توقیر کے پاس کام سیکھ رہا تھا۔
شعیب حیدر کے مطابق وسیم کو سمجھانے کے بعد توقیر کے پاس بھیجا گیا تھا، جہاں تقریباً 40 سے 45 لڑکوں کی ٹیم کام کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توقیر کے خلاف پہلے کوئی شکایت سامنے نہیں آئی تھی تاہم اب وہاں کام کرنے والے ایک اور لڑکے کو بھی واپس لے آئے ہیں۔
شعیب حیدر نے بتایا کہ توقیر پیدل بھاگتے ہوئے تھک گیا تو اس نے گاڑی میں وسیم کا پیچھا کیا۔ ان کے مطابق بچہ کس وجہ سے بھاگا تھا، اس بارے میں ملزم ہی تفتیش کے دوران بتائے گا۔
وسیم کے اہلخانہ نے کیا بتایا؟
وسیم کے ساتھ یتیم خانے میں رہائش پذیر اس کے کزن ندیم نے میڈیا کو بتایا کہ وہ 6 سال سے یتیم خانے میں مقیم ہے۔ ندیم کے مطابق وسیم شرارتیں کرتا تھا اور کہتا تھا کہ وہ گھر واپس جانا چاہتا ہے۔ ندیم کا کہنا تھا کہ وہ توقیر کو نہیں جانتا اور نہ ہی اس سے ملا ہے۔
نماز جنازہ کے موقع پر وسیم کے نانا نے میڈیا کو بتایا کہ وہی اسے یتیم خانے میں داخل کرانے کے لیے لائے تھے تاکہ وہ تعلیم حاصل کرسکے۔ نانا نے ملزم کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
وسیم کے چچا جعفر حسین نے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ وسیم کے والد 9 سال پہلے انتقال کر گئے تھے جس کے بعد پہلے نانا اور پھر انہوں نے اس کی کفالت کی۔
دوسری جانب اہل علاقہ کے مطابق وسیم کے والد کے انتقال کے بعد اس کی والدہ کی شادی ان کے دیور سے کردی گئی تھی جس کے بعد وسیم اور اس کے بھائی کو نانا نے یتیم خانے میں داخل کرادیا تھا۔
لاش کی حالت خراب ہونے کے باعث وسیم عباس کی نماز جنازہ وقوعہ کی رات ہی موضع دولت پور میں ادا کردی گئی تھی۔
