سندھ کابینہ نے میر رضا کیس کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کر لیا۔
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کی رواں برس جولائی میں گلستان جوہر سے لاش ملی تھی۔ جس کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں۔
میر رضا کیس کی رپورٹ 7 مختلف لفافوں میں پیش کی گئی۔ اور کابینہ نے فیصلہ کیا کہ میر رضا کیس کی رپورٹ آج ہی محکمہ داخلہ کی ویب سائٹ پر جاری کر دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے رپورٹ پر عمل درآمد کے لیے صوبائی وزراء ضیاء الحسن لنجار، ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل پر مشتمل ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی۔
مراد علی شاہ نے میر رضا کیس جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کی کاپی متاثرہ خاندان کو فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
دوسری جانب کراچی کی مقامی عدالت میں آج پھر میر رضا قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ جس میں تفتیشی افسر آج تیسری مرتبہ بھی عدالت کے سامنے کیس کا حتمی چالان جمع کرانے میں ناکام رہے۔
تفتیشی حکام نے عدالت سے حتمی چالان جمع کروانے کے لیے مزید مہلت طلب کی، جس پر عدالت نے انہیں مہلت فراہم کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر چالان لازمی جمع کروانے کی ہدایت کی اور کیس کی مزید سماعت 2 نومبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ میر رضا کیس پر جوڈیشل کمیشن اپنی کارروائی مکمل کر چکا ہے۔
میر رضا کیس میں کب کیا ہوا ؟
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی رواں برس 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے پُراسرار طور پر لاپتہ ہوئے تھے اور 2 روز بعد ان کی لاش گلستان جوہر کے علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس نے ابتدائی طور پر اس واقعے کو خودکشی قرار دیتے ہوئے اسی پہلو سے تحقیقات کا آغاز کیا تھا تاہم میر رضا کے اہل خانہ کا مؤقف تھا کہ اسے اغوا کے بعد تشدد کر کے قتل کیا گیا ہے۔
بعد ازاں پولیس تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ میر رضا کی لاش انتہائی تشویش ناک حالت میں ملی تھی۔ لاش کے سینے پر گولی کے نشان واضح تھے اور وہیں لاش ملنے سے ایک روز قبل میر رضا کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کر دیئے گئے تھے۔
پولیس تفتیش، ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دستیاب شواہد سے متعلق سوالات سامنے آنے پر اہل خانہ کے مؤقف کو تقویت ملی جس کے بعد یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر شکوک و شبہات کے بعد میر رضا کے والد نے عدالت سے رجوع کیا، جس پر عدالت نے قبر کشائی اور خصوصی میڈیکو لیگل بورڈ کے ذریعے لاش کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم دیا تھا۔
عدالت کے حکم پر میڈیکل بورڈ نے 8 اگست کو قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا، جس کی رپورٹ میں تشدد اور قتل کے شواہد سامنے آئے۔ بعد ازاں فیروز آباد پولیس نے اغوا کے مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302 کو شامل کر کے اسے باقاعدہ قتل کے کیس میں تبدیل کر دیا۔
سندھ حکومت نے متاثرہ خاندان کی جانب سے پولیس تفتیش اور طریقہ کار پر تحفظات کے اظہار کے بعد اگست میں سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا۔
پولیس تفتیش کے دوران میر رضا کے مالی معاملات سے متعلق بھی مختلف دعوے سامنے آتے رہے جس میں کرپٹو مارکیٹ میں مبینہ طور پر ہونے والے نقصانات اور سرمایہ کاروں کو ماہانہ منافع کی ادائیگی جاری رکھنے کے لیے مختلف لوگوں سے بھاری رقوم ادھار پر لینے جسے دعوے بھی سامنے آئے۔
پولیس کے بعد جوڈیشل کمیشن نے بھی میر رضا کے قریبی دوستوں اور قرض خواہوں کو شامل تفتیش کیا۔
جوڈیشل کمیشن نے اپنی کارروائی کے دوران 15 سماعتیں کیں اور 49 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔ کمیشن نے میر رضا کی لاش ملنے کے مقام کا دورہ بھی کیا۔ کمیشن رپورٹ میں پولیس کی تفتیش، طبی و قانونی (میڈیکو لیگل) کارروائیوں اور کیس میں مبینہ غفلت سے متعلق امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
جوڈیشل کمیشن نے اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اپنی کارروائی مکمل کر کے 15 اکتوبر کو یہ تفصیلی رپورٹ سندھ حکومت کے حوالے کی تھی جسے آج ہی پبلک کیے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔



