مصر نے سعودی عرب کی سلامتی کے دفاع کے لیے مملکت میں فوج تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔ جس کے بعد فوج کو دفاعی مشن کے تحت سعودی عرب کی مدد کے لیے بھیجا جائے گا۔
گلف نیوز کی رپورٹ کے مطابق 18 اکتوبر کو مصری ایوان نمائندگان کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صدر اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر عبدالفتاح السیسی کے سعودی عرب میں فوج تعینات کرنے کے فیصلے پر غور کیا گیا۔
مصری رکن پارلیمنٹ مصطفیٰ بکری نے بتایا کہ صدر کی سربراہی میں نیشنل ڈیفنس کونسل نے اجلاس کے بعد فوج کی تعیناتی اور اسے سونپے جانے والے مشن کی منظوری دے دی۔
مصطفیٰ بکری کا کہنا تھا کہ مصر نے عرب قومی سلامتی کے تحفظ میں اپنے کردار سے کبھی دستبرداری اختیار نہیں کی۔ سعودی عرب کی سلامتی مصر کی اپنی قومی سلامتی کا حصہ ہے اور مملکت کے استحکام کو درپیش کوئی بھی خطرہ مصر کے لیے بھی خطرہ ہے۔
Egypt launches ‘defensive mission’ in support of Saudi Arabia https://t.co/zH2xBC5QkJ
— The Cradle (@TheCradleMedia) October 18, 2026
اس سے قبل ہفتے کے روز صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا تھا کہ مصر سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے اس کی درخواست پر کوئی بھی ضروری اقدام کرنے کو تیار ہے۔
یمن میں کشیدگی اور حوثیوں کے حملوں میں اضافہ
رپورٹ کے مطابق مصر کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب اور یمن کی ایران نواز حوثی تحریک کے درمیان فوجی کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ یمن کی انصاراللہ تحریک کی قیادت میں سرگرم یمنی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اتوار کو سعودی عرب کا ایک حملہ آور ہیلی کاپٹر مار گرایا۔
یمنی مسلح افواج کے بیان میں کہا گیا کہ سعودی اے ایچ 6 آئی ہیلی کاپٹر کو نجران کے ساحل کے قریب مقامی طور پر تیار کردہ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے تصدیق کی کہ ہیلی کاپٹر کا پورا عملہ ہلاک ہوگیا۔
Yemen: New footage released by the Houthis shows a kamikaze munition striking a Saudi Arabian National Guard AH-6i helicopter over the Najran province in Saudi Arabia…17-10-2026 https://t.co/31hlTKWMzg
— Rowan Van Dijk (@Lastkombo) October 18, 2026
اس سے قبل سعودی فضائی حملوں میں مغربی یمن کے شہر حدیدہ کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یمنی مسلح افواج کے مطابق جولائی میں سعودی عرب کی جانب سے کارروائیاں تیز کیے جانے کے بعد سے یمن پر 2 ہزار 500 سے زائد حملے کیے جاچکے ہیں۔
دوسری جانب سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، فوجی اڈوں اور توانائی کے مراکز کو یمنی مسلح افواج کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا رہا ہے۔
مکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ
رپورٹ میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کو فعال کیے جانے کی اطلاعات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی طیاروں نے یمن میں حملے کیے، تاہم پاکستان نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔
رپورٹ میں سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوں کی موجودگی اور ترکیے کی جانب سے فوجی سازوسامان اور اہلکاروں کی تعیناتی سے متعلق دعوے بھی شامل ہیں۔



