جنوبی افریقا کے سابق کپتان اور مایہ ناز بیٹر اے بی ڈی ویلیئرز نے انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹروں نے مجھے خبردار کیا تھا کہ دائیں آنکھ کے پردے کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کے باعث میں بینائی سے محروم ہو سکتا تھا۔
کرکٹ کے شائقین اے بی ڈی ویلیئرز کو ’مسٹر 360‘ کے نام سے جانتے ہیں، کیونکہ وہ میدان کے چاروں جانب شاٹس کھیلنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔
اے بی ڈی ویلیئرز نے 114 ٹیسٹ میچوں میں 50.66 کی اوسط سے 8 ہزار 765 رنز بنائے، ٹیسٹ کرکٹ میں ان کا بہترین انفرادی اسکور ناٹ آؤٹ 278 رنز رہا۔ ون ڈے کرکٹ میں تیز ترین نصف سنچری، سنچری اور 150 رنز بنانے کا ریکارڈ بھی اے بی ڈی ویلیئرز کے پاس ہے۔ وہ 3 مرتبہ آئی سی سی ون ڈے پلیئر آف دی ایئر کا ایوارڈ بھی جیت چکے ہیں۔
یاہو اسپورٹس کے مطابق ٹی او آئی اسپورٹس کے ’بمبئی اسپورٹس ایکسچینج پوڈ کاسٹ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے اے بی ڈی ویلیئرز نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل ان کی دائیں آنکھ کی سرجری ہوئی تھی جو دیکھنے کے عمل میں ویسے بھی زیادہ حصہ نہیں لے رہی تھی، اس لیے اس انجری نے ان کی کارکردگی پر زیادہ اثر نہیں ڈالا۔
🚨 AB DE VILLIERS REVEALS HE COULD HAVE GONE COMPLETELY BLIND IF HE HADN’T RETIRED FROM CRICKET! 💔
Interviewer:🗣️ I read that you continued batting for a few years despite having a detached retina. Is that true?
AB de Villiers:🗣️ Yes, I had eye surgery some time ago. My right eye is not my dominant eye, so I don’t think it had much of an impact on my cricket.During the IPL, I noticed that my vision in my right eye was becoming a little blurry, especially at night.
I got my eye checked after retiring because I didn’t want surgery during my playing career. Doctors found a detached retina and operated the very next day. They warned me that I could have lost my eyesight.
It was an accident at home. My son accidentally hit my eye with his heel while playing. It hurt badly, but I didn’t take it seriously at the time.
— Central Cricket (@arshdeep3444) October 17, 2026
انہوں نے بتایا کہ انڈین پریمیئر لیگ کے دوران خصوصاً رات کے وقت ان کی دائیں آنکھ کی بینائی دھندلا جاتی تھی۔
اس آنکھ کا معائنہ انہوں نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد کرایا کیونکہ ”میں اپنے کھیلنے کے دنوں میں سرجری نہیں کرانا چاہتا تھا۔“
مسٹر 360 کے مطابق ڈاکٹروں نے معائنے کے دوران آنکھ کے پردے کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کی تشخیص کی اور اگلے ہی روز آپریشن کر دیا، ڈاکٹروں نے خبردار کیا تھا کہ میں اپنی بینائی بھی کھو سکتا تھا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ میرے بیٹے نے غلطی سے اپنی ایڑی میری آنکھ پر مار دی تھی جس سے انہیں تکلیف جو بہت ہوئی لیکن انہوں نے اسے سنجیدہ نہین لیا اور اپنے کیریئر کے آخری 2 سال آنکھ کے پردے کی اس تکلیف کے ساتھ ہی کھیلتے رہے۔
’کوہلی نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی‘
اے بی ڈی ویلیئرز نے مزید انکشاف کیا کہ ویرات کوہلی نے 2021 میں فرنچائز کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے سے قبل انہیں اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ کھیل کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔
ڈی ویلیئرز نے کہا، ”میں نے بین الاقوامی کرکٹ سے عین اسی وقت کنارہ کشی اختیار کی جب مجھے لگا کہ ایسا کرنا چاہیے۔ یہ 2018 کی بات ہے۔ ہم نے اپنے ہوم گراؤنڈ پر بھارت اور آسٹریلیا کو شکست دی تھی اور میں بہترین یادوں کے ساتھ رخصت ہوا تھا۔“
انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ چند ٹی 20 ٹورنامنٹس کھیلتا رہوں گا، اپنے خاندان کے ساتھ دنیا بھر کا سفر کروں گا اور انہیں آئی پی ایل، انگلینڈ کی ٹی 20 بلاسٹ، آسٹریلیا کی بگ بیش لیگ اور چند دوسرے ٹورنامنٹس میں اپنے ساتھ لے جاؤں گا۔ جب بالآخر مجھے محسوس ہوا کہ اب وقت آگیا ہے تو میں نے 2021 میں فرنچائز کرکٹ کو بھی خیر باد کہہ دیا۔‘‘
ڈی ویلیئرز کے مطابق آئی پی ایل سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ اچانک نہیں تھا بلکہ وہ اپنے آخری سیزن کے دوران مسلسل اس بارے میں سوچتے رہے تھے۔ اس فیصلے تک پہنچنے میں وقت لگا۔ آخری سیزن کے دوران یہ خیال مسلسل میرے ذہن میں رہا۔ بالآخر میں ویرات کے پاس گیا اور ان سے کہا کہ میں اب مزید نہیں کھیلوں گا۔‘‘
’بڑے میچوں سے پہلے اکثر میری نیند اڑ جاتی تھی‘
ان کا کہنا تھا، ”مجھے اپنی کامیابیوں پر بے حد فخر ہے، لیکن بڑے میچوں سے پہلے اکثر میری نیند اڑ جاتی تھی۔ میں ٹیم کے لیے کچھ خاص کرنے پر اتنی توجہ مرکوز کر لیتا تھا کہ اپنے فطری انداز میں کھیلنا بھی مشکل ہو جاتا تھا۔ اس لیے یہ سفر ہمیشہ آسان نہیں رہا۔“
واضح رہے کہ اے بی ڈی ویلیئرز نے 2018ء میں بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی تھی، تاہم وہ فرنچائز کرکٹ کھیلتے رہے، انہوں نے 2021ء تک انڈین پریمیئر لیگ میں رائل چیلنجرز بنگلورو کی نمائندگی کی جس کے بعد تمام طرز کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لی۔



