قومی کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان اور اوپننگ بیٹر امام الحق کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی ہے جس کے بعد دونوں کھلاڑی پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کا آخری مرحلہ کھیل سکیں گے۔
واضح رہے کہ محمد رضوان اورامام الحق کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں انکوائری جاری ہے، معاملے میں قومی ٹیم کے ڈریسنگ روم کی معلومات مبینہ طور پر لیک ہونے سے متعلق پہلوؤں کی تحقیقات کا ذکر سامنے آیا ہے، دونوں کھلاڑیوں کے موبائل فونز کا فرانزک تجزیہ اور مالی لین دین کی جانچ کی جا رہی ہے تاہم دونوں کھلاڑیوں پر کسی جرم کا حتمی تعین نہیں ہوا۔
ہم نیوز ذرائع کے مطابق محمد رضوان اورامام الحق نے ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت کے لیے فٹنس ٹیسٹ بھی پاس کرلیا ہے۔
دونوں کرکٹرز اب اپنی متعلقہ ٹیموں کی نمائندگی کرتے ہوئے پریزیڈنٹ ٹرافی کے آخری مرحلے میں ایکشن میں دکھائی دیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد رضوان ایس این جی پی ایل (سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ) جبکہ امام الحق او جی ڈی سی ایل (آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ) کی جانب سے کھیلیں گے۔
دونوں کرکٹرز کو ابتدائی طور پر فٹنس ٹیسٹ نہ دینے اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کی انکوائری کے باعث ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے سے روک دیا گیا تھا تاہم اب فٹنس ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد انہیں ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق محمد رضوان اور امام الحق کے خلاف این سی سی آئی اے میں انکوائری تاحال جاری ہے، دونوں کھلاڑی اس معاملے میں تفتیشی ادارے کے ساتھ تعاون بھی کر رہے ہیں۔
ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت ملنے کے بعد دونوں کھلاڑیوں کو اپنی فارم اور فٹنس بہتر بنانے کا موقع ملے گا۔
پریزیڈنٹ ٹرافی گریڈ ون کا آخری مرحلہ ان کے لیے مسابقتی کرکٹ میں واپسی اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا اہم موقع ثابت ہوسکتا ہے۔
تاہم این سی سی آئی اے کی انکوائری جاری رہنے کے باعث اس معاملے میں مزید پیش رفت پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔



